صفحات

Tuesday, June 4, 2024

6- دَرس معرفت

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

6 - دَرس4 جون 2024 | بروز:منگل 26 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

علمِ معرفت

معرفت خدا کے اسباق 


 پہلاسبق:خدا کی تلاش

۱۔کائنات سے واقفیت کا شوق

خلقت کائنات کے بارے میں آگاہی اور آشنائی حاصل کر نے کا شوق ہم سب میں پایا جاتاہے۔

یقینا ہم سب جاننا چاہتے ہیں:

خوبصورت ستاروں سے چمکتا ہوا یہ بلندوبالا آسمان ،دلکش مناظرسے بھری یہ وسیع زمین ،یہ رنگ برنگ مخلوقات،خوبصورت پرندے ،طرح طرح کی مچھلیاں ،سمندر اور پہاڑ،کلیاں اور پھول،سر بہ فلک قسم قسم کے درخت اور..کیا خود بخودپیدا ہو گئے ہیں یا یہ عجیب و غریب نقشے کسی ماہر ،قادر و غالب نقاش کے ہاتھوں کھینچے گئے ہیں؟

اس کے علاوہ ہماری زندگی میں ہم سب کے لئے جو ابتدائی سوالات پیدا ہو تے ہیں ،وہ یہ ہیں:

ہم کہاں سے آئے ہیں ؟کہاں پر ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟

اگرہم ان مذکورہ تینوں سوالات کے جواب جانیں تو کتنے خو ش قسمت ہوں گے؟یعنی ہم جا نیں کہ ہماری زندگی کا آغاز کہاں سے ہوا ہے اور سر انجام کہاں جائیں گے؟اور اس وقت ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ہمارا ضمیر ہم سے کہتا ہے :مذکورہ سوالات کے جواب حاصل کر نے تک آرام سے نہ بیٹھنا۔

کبھی کو ئی شخص ٹریفک حادثہ میں زخمی ہو کر بے ہوش ہو جا تا ہے اور معالجہ کے لئے اسے ہسپتال لے جاتے ہیں۔جب اس کی حالت قدرے بہتر ہو تی ہے اور وہ ہوش میں آتا ہے تو اپنے ارد گرد موجودافراد سے اس کا پہلا سوال یہ ہو تا ہے:یہ کون سی جگہ ہے؟مجھے کیوں یہاں لایا گیا ہے؟میں کب یہاں سے جاؤں گا؟اس سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان ایسے سوالات کے مقابلہ میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔اس لئے جو چیز ہمیں سب سے پہلے خدا کی تلاش اور خالق کائنات کی معرفت حاصل کر نے پر مجبور کرتی ہے ،وہ ہماری تشنہ اور متلاشی روح ہے۔


۲۔شکر گزاری کا احساس

فرض کیجئے آپ کی ایک محترم مہمان کی حیثیت سے دعوت کی گئی ہے اور آپ کی مہمان نوازی اور آرام و آسائش کے تمام وسائل مہیا کئے گئے ہیں ۔لیکن چونکہ یہ دعوت آپ کے بڑے بھائی کے توسط سے انجام پائی ہے اور اپنے اسی بھائی کے ہمراہ دعوت پر گئے ہیں اور وہ اپنے میز بان کو اچھی طرح سے نہیں پہچانتے،اس لئے اس دعوت پر پہنچتے ہی آپ سب سے پہلے اپنے میز بان کو پہچان کر اس کا شکریہ بجا لانے کی کوشش کریں گے۔

ہم بھی جب خالق کائنات کے بچھائے ہوئے خلقت کے اس وسیع دستر خوان پر نظر ڈالتے ہیں اور بینائی والی آنکھیں،سننے کے کان ،عقل وہوش،مختلف جسمانی اور نفسیاتی توانائیاں،زندگی کے مختلف وسائل اور پاک و پاکیزہ رزق جیسی گو نا گوں نعمتوں کو اس وسیع دستر خوان پر دیکھتے ہیں تو بے ساختہ اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں عطا کر نے والے کو پہچان لیںاور اگر چہ وہ ہمارے شکریہ کا محتاج بھی نہ ہو،ہمیں اس کا شکر یہ بجا لاناچاہئے اورجب تک یہ کام انجام نہ دیں،ہم بے چینی اور کمی کا احساس کرتے ہیں ،لہذا یہ ایک اور دلیل ہے جو ہمیں خدا کوپہچاننے کی طرف ترغیب دیتی ہے۔


۳۔خدا کی معرفت سے ہمارے نفع و نقصان کا تعلق

فرض کیجئے اپنے سفر کے راستہ پرآپ ایک چورا ہے پر پہنچے،وہاں پر شور وغل بر پا ہے،سب پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس چوراہے پر نہ رکئے،یہاں بڑے خطرات ہیں۔ لیکن ہر ایک ہماری الگ الگ راستے کی طرف راہنمائی کر تا ہے ۔ایک کہتا ہے :بہترین راستہ یہ ہے کہ مشرق کی طرف چلے جائیں،دوسرا مغرب کی طرف مطمئن ترین راستہ بتاتا ہے اور تیسرا ہمیں ان دو راستوں کے بیچ والے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ،اور کہتا ہے خطرہ سے بچنے کا اور منزل نیز امن وامان اور سعادت وخوش بختی کی جگہ تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔کیا ہم یہاں پر غور وفکر اور تحقیق کئے بغیر ان راستوں میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کریں گے؟یا ہماری عقل ہمیں یہ حکم دے گی کہ وہیں پر رکے رہیںاور کسی راستہ کا انتخاب نہ کریں؟قطعاًایسا نہیں ہے۔بلکہ عقل ہمیں حکم دیتی ہے کہ اس حالت میں جتنی جلد ممکن ہو تحقیق کریں اور ان افراد کی تجویزوں میں سے ہر ایک پر غور و فکر کے بعد 

جس کسی کے بارے میں صحیح اور سچ ہو نے کی نشانیاں اور اطمینان بخش دلائل موجود ہوں،اسے قبول کریں اور اطمینان کے ساتھ اس راہ کو منتخب کر کے آگے بڑھیں۔

اس دینوی زندگی میں بھی ہماری یہی حالت ہے ۔مختلف مذاہب اور مکاتب فکر میں سے ہر ایک ہمیں اپنی طرف دعوت دیتا ہے ۔لیکن چونکہ ہماری تقدیر،ہماری خوشبختی وبد بختی، ہماری ترقی وتنزل کا دار ومدار بہترین راستہ کی تحقیق اور اس کے انتخاب کرنے پر ہے،اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اس سلسلہ میں غور وفکر کریں اور جو راستہ ہماری ترقی و تکامل  کے  موجب ہو اسے اپنے لئے چن لیں اور جو ہماری نابودی ،بدبختی اور بربادی کا سبب ہو اس سے پر ہیز کریں۔یہ بھی ہمارے لئے خالق کائنات کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کر نے کی طرف دعوت کر نے کی ایک اور دلیل ہے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

فَبَشِّرْ (17)عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ(18) (سورہ الزمر پارہ 23)

” میرے ان بندوں کو بشارت دیجئے،جو مختلف باتوں کو سنتے ہیں اور ان میں جو بات اچھی ہو تی ہے اسی کا اتباع کرتے ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے:

۱۔کیاآپ نے خدا کی معرفت کے سلسلہ میں جو کچھ آج تک اپنے ماں باپ سے سناہے ،اس کے علاوہ اس بارے میں خودبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے ؟

۲۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خدا کی تلاش اور خدا کی معرفت میں کیا فرق ہے؟

۳۔کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے دوران کبھی ایک عمیق روحانی لذت کا احساس کیا ہے؟



زحالِ مسکیں  مکن تغافل دوراے نیناں بنائے  بتیاں 

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں 


جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا 

تو  ہی   آیا  نظر   جدھر  دیکھا 


بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے 

تو  دل میں تو  آتا ہے  سمجھ میں نہیں آتا


 سامنے  ہے  جو  اسے  لوگ  برا کہتے ہیں

 جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں


تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں 

تجھے  ہر  بہانے سے ہم دیکھتے ہیں





حاضری فہرست 
 درسِ معرفت
 بذمہ رئیس المکتبہ خواجہ طہ عامر امینی
04-06-2024، بروز منگل

11:30 تا 1:00

1. رخسانہ امینی
2. عافیہ امینی 
3. سائرہ ہاشمی امینی
4. حسنین افتخار امینی
5. بشریٰ امینی
6. عدنان ظفر امینی 
7. فیروزہ امینی
8. نیرہ امینی
9. پروین افضل امینی
10. فائقہ امینی
11. ماہم امینی
12. عینی محسن امینی
13. قیصر النساء امینی
14. ارسلان امینی
15. سخاوت علی نظامی امینی
16. فرخندہ
17. رابعہ امینی
18. کنول امینی
19. صوفیہ امینی
20. خواجہ وسیم فاروقی امینی
21. ذیشان تنویر امینی
22. افشین امینی

 برخاست🔔 
 کمانڈنٹ صالحہ امینی








No comments:

Post a Comment