صفحات

Tuesday, June 11, 2024

8- دَرس معرفت


 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

8- دَرس6جون 2024 | بروز:جمعرات 28 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

 علمِ معرفت 

خدا کی معرفت کے دواطمینان بخش راستے

۱۔خدا کی معرفت اور علوم کی ترقی

معرفت خدا کے بارے میں زمانہ قدیم سے آج تک بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور اس موضوع پر دانشوروں اور غیر دانشوروںمیں کافی بحث وگفتگو ہوتی رہی ہے۔

اس حقیقت کو پانے کے لئے ہر ایک نے ایک راستہ کا انتخاب کیا ہے۔لیکن تمام راستوں میں سے بہترین راستے جو ہمیں خالق کائنات تک جلدی پہنچاسکتے ہیں،دو راستے ہیں:

الف۔اندرونی راستہ(نزدیک ترین راستہ)

ب۔بیرونی راستہ(واضح ترین راستہ)

پہلے طریقہ میں ہم اپنے وجود کی گہرائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں تا کہ توحید کی آواز کو اپنی روح کے اندر سن لیں۔

دوسرے طریقہ میں ہم وسیع کائنات پر ایک نظر ڈالتے ہیں اورتمام مخلوقات کی پیشانی پر اور ہرذرّہ کے اندراللہ تعالیٰ کی نشانیاں پاتے ہیں۔ان دو طریقوں میں سے ہر ایک کے بارے میں طویل بحثیں کی گئی ہیں ۔لیکن میری کوشش یہ ہے کہ ایک مختصر بحث کے ذریعہ ان دو طریقوں کو ایک اجمالی تحقیق کے ساتھ بیان کریں۔

الف۔اندرونی راستہ

مندرجہ ذیل چند موضوعات قابل غور ہیں:

۱۔دانشور کہتے ہیں:اگر کسی بھی قوم ونسل سے متعلق ایک انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اسے کسی خاص قسم کی تعلیم وتر بیت نہ دی جائے ،حتی خدا پرستی اور مادیت کی گفتگو سے بھی بے خبر رکھاجائے تب بھی وہ خود بخود ایک ایسی قوی طاقت کی طرف متوجہ ہو جاتاہے جومادی دنیا سے بالا تر ہے اور پوری کائنات پر حکمران ہے۔وہ اپنے دل اورضمیرکی عمیق گہرائیوں میں ایک لطیف ،محبت آمیز،اورمضبوط و محکم آواز کا احساس کرتا ہے جو اسے علم وقدرت کے ایک عظیم مبدا کی طرف بلاتی ہے،جسے ہم خدا کہتے ہیں ۔یہ بشرکی وہی پاک اور بے لاگ فطری کی آواز ہے۔

۲۔ممکن ہے مادی دنیا اور روز مرہ زندگی کاشور وغل اوراس کی چمک دمک اس کو اپنی طرف مشغول کرے اور وہ عارضی طور پر اس آواز کو سننے سے غافل ہو جائے ،لیکن جب وہ اپنے آپ کو مشکلات اور مصیبتوں کے مقابلہ میں پاتا ہے ،جب خطرناک طبیعی حوادث اس پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے سیلاب،زلزلہ،طوفان اورایک نامناسب موسم کے سبب ہوائی جہاز میں رونما ہونے والے اضطرابی حالات سے دو چار ہو تا ہے ،اس وقت وہ تمام مادی وسائل سے مایوس ہو جاتا ہے اور اپنے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں پاتا ہے تو یہ آواز اس کی روح کے اندر ابھرتی ہے ،وہ احساس کرتا ہے کہ اس کے وجود کے اندر سے ایک طاقت اسے اپنی طرف بلا رہی ہے ،ایک ایسی طاقت جو تمام طاقتوں سے برتر ہے ،ایک پر اسرارطاقت جس کے سامنے تمام مشکلات سہل اور آسان ہیں۔آپ بہت کم ایسے لوگوں کو پائیں گے جو اپنی زندگی کے مشکل ترین حوادث میں اس قسم کی حالت پیدا نہ کریں اور بے اختیار خدا کو یاد نہ کریں ۔یہی بات ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کتنا اس کے نزدیک ہیں اور وہ کس قدر ہمارے قریب ہے،وہ ہماری روح و جان میں موجود ہے۔البتہ فطری آوازہمیشہ انسان کی روح میںموجود ہے لیکن مذکورہ لحظات میں یہ آواز زیادہ قوی ہو جاتی ہے۔

۳۔تاریخ ہمیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ایسے صاحبان اقتدار جواپنے جاہ وجلال اور آرام و آسائش کے لمحات میں خدا کا نام تک لینے سے انکار کرتے تھے ،جب اپنی قدرت کی بنیادوں کو متزلزل ہوتے اور اپنی ہستی کے محلوں کو گرتے دیکھتے تھے تو اس عظیم مبداً(خدا) کی طرف متوجہ ہوتے تھے اورفطری آواز کو واضح طور پر سنتے تھے۔تاریخ بتاتی ہے:جب فر وعون نے اپنے آپ کو پر تلاطم لہروں کی لپیٹ میں پایااور اس نے مشاہدہ کیا کہ جو پانی اس کے ملک کی آبادی اور زندگی کا سبب اور اس کی تمام مادی طاقت کا سر چشمہ تھا،اس وقت اس کے لئے موت کا حکم جاری کر رہاہے اور وہ چند چھوٹی لہروں کے مقابلہ میں بے بس ہو کر رہ گیا ہے اور ہر طرف سے اس پر نا امیدی چھائی ہوئی ہے ،تو اس نے فریاد بلند کی :”میں اس وقت اعتراف کرتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“حقیقت میں یہ فر یاد اس کی فطرت اور روح کی گہرائیوں سے بلند ہوئی تھی نہ  صرف فروعون بلکہ وہ تمام لوگ جو ایسے حالات سے دو چار ہوجاتے ہیں،اس آواز کو واضح طور پر سنتے ہیں۔

۴۔خود آپ بھی اگر اپنے دل کی گہرائیوں پر توجہ کریں گے توضرور تائید کریں گے کہ وہاں پر ایک نور چمکتا ہے جو تمھیں خدا کی طرف دعوت دیتا ہے ۔شاید زندگی میں آپ کو کئی بار ناقابل برداشت حوادث اور مشکلات سے دوچار ہو نا پڑا ہو اور تمام مادی وسائل ان مشکلات کو دور کر نے میں ناکام ہو گئے ہوں ،ان لمحات کے دوران آپ کے ذہن میں یہ حقیقت ضرور اُجاگر ہوئی ہوگی کہ اس کائنات میں ایک بڑی اور قدرتمند طاقت موجود ہے جو اس مشکل کو آسانی کے ساتھ حل کر سکتی ہے۔ان لمحات میں آپ کی امید پرور دگار کی عشق سے ممزوج ہوکرآپ کی روح وجان کو اپنی آغوش میں لیتی ہے اور یاس ونا امیدی کو آپ کے دل سے دور کر دیتی ہے ۔جی ہاں!یہ نزدیک ترین راستہ ہے کہ ہر شخص اپنی روح کے اندر پرور دگار عالم اور خالق کائنات کو پاسکتا ہے۔

ایک سوال

ممکن ہے آپ میں سے بعض افراد یہ سوال کریں کہ کیا یہ احتمال نہیں ہے کہ ہم ماحول اور اپنے والدین سے حاصل کی گئی تعلیمات کے زیر اثر حساس مواقع پر ایسا سوچتے ہیں ؟اور خدا کی بار گاہ میں ہاتھ پھیلاتے ہیں؟

ہم اس سوال کے بارے میں آپ کو حق بجانب جانتے ہیں اور ہمارے پاس اس کا ایک دلچسپ جواب ہے ،جسے ہم آئندہ سبق میں بیان کریں گے ۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ  (سورۂ عنکبوت/۶۵،پارہ۲۱)

”پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیںپھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچ دیتا ہے تو فوراً شرک اختیار کر لیتے ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱۔کوشش کرکے مذکورہ آیہ کریمہ کو آیت اور سورہ کے نمبر اس کے تر جمہ کے ساتھ لفظ بہ لفظ یاد کیجئے اور بتدریج زبان قرآن سے آگاہی حاصل کیجئے ۔

۲۔کیا آپ کو کبھی کوئی ایسا مشکل حادثہ پیش آیا ہے کہ آپ ہر طرف سے مایوس ہوچکے ہوں اور صرف پروردگار کے لطف کی امید باقی رہی ہو؟(ایک مختصر مقالہ یا تقریر کے ذریعہ اس کو بیان کیجئے )۔

۳۔اس راستہ کو ہم نے کیوں نزدیک ترین راستہ کہاہے؟




Monday, June 10, 2024

11- دَرس معرفت


9- دَرس معرفت

 


 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

9- دَرس7جون 2024 | بروز:جمعہ 29 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی




10- دَرس معرفت

 



10- دَرس 10جون 2024 | بروز:  پیر3  ذی الحجہ قعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
علمِ معرفت
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
سوال
گزشتہ سبق میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ہم توحید اور خدا پرستی کی آواز کو اپنی روح کے اندر سے سنتے ہیں ،خاص کر مشکلات اور مصیبتوں کے وقت یہ آواز قوی تر ہو جاتی ہے اور ہم بے ساختہ طور پر خدا کو یاد کر کے اس کی لامحدود قدرت اور لطف و محبت سے مدد مانگتے ہیں۔یہاں پر ممکن ہے یہ سوال پیش کیا جائے کہ یہ اند رونی آواز،جسے ہم فطرت کی آواز کہتے 
ہیں ،ان تبلیغات کا نتیجہ ہو جو معاشرہ کے ماحول ،مکتب و مدرسہ اور ماں باپ سے ہم سنتے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک قسم کی عادت بن گئی ہے۔
جواب
اس اعتراض کا جواب ایک مختصر سے مقدمہ کے ذریعہ واضح ہو جاتا ہے۔عادتیں اور رسم و رواج ،متغیّر اور ناپائیدار چیزیں ہیں ۔یعنی ہم کسی عادت اور رسم ورواج کو پیدا نہیں کرسکتے ہیں جو پوری تاریخ بشر کے دوران تمام اقوام میں یکساں صورت میں باقی رہے ہوں۔جو مسائل آج عادت اور رسم ورواج کے طور پر رونما ہوتے ہیں،ممکن ہے کل بدل جائیں ۔
اسی وجہ سے ممکن ہے ایک قوم کے رسم ورواج اور عادات دوسری قوموں میں نہ پائے جائیں۔اس لئے اگر ہم مشاہدہ کریں کہ ایک چیز تمام قوموں اور ملتوں کے در میان ہر زمان 
ومکان میں بلا استثنا ء موجودہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی ایک فطری بنیاد ہے جوانسان کی روح و جان کی ساخت اور بناوٹ میں قرار پائی ہے۔
مثال کے طور پر ایک ماں کی اپنے فرزند کی نسبت محبت کو کسی تلقین،تبلیغ عادت ورسم ورواج کا نتیجہ قطعاًنہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہم کسی قوم وملت اور کسی زمان و مکان میں نہیں پاتے ہیں کہ ایک ماں اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتی ہو۔
البتہ ممکن ہے ایک ماں نفسیاتی بیماری کی وجہ سے اپنے فرزند کو نابود کر دے یا کوئی باپ جاہلیت کے زمانہ میں غلط اور خرافی تفکر کی وجہ سے اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردے ،
لیکن یہ انتہائی شاذو نادر اور استثنائی مواقع ہیں،جوجلدی ہی ختم ہو کر اپنی اصلی حالت(یعنی فرزند سے محبت)پر لوٹ آتے ہیں۔مذکورہ تمہید کے پیش نظر ہم آج کے اور ماضی کے 
انسانوں کی خدا پرستی کے مسئلہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
(چونکہ یہ سبق قدرے پیچیدہ ہے اس لئے اس پر زیادہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے)
۱۔عمر انیات کے ماہرین اور بڑے بڑے مورخین کی گواہی کے مطابق ہم کسی ایسے زمانے کو نہیں پاتے ہیں جس میں مذہب اور مذہبی ایمان لوگوں میںموجود نہ رہاہو بلکہ ہر عصراور ہر زمانے میں دنیا میں ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں مذہب موجود تھا اور یہ بذات خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خدا پرستی کا سر چشمہ انسان کی روح وفطرت کی گہرائیوں میں مو جود ہے نہ یہ کہ عادات،رسم و رواج اور تعلیم و تر بیت کا نتیجہ ہے ۔اس لئے کہ اگر یہ عادات ،رسم ورواج اور تعلیم وتر بیت کا نتیجہ ہو تا تو اس صورت میں اسے عام اور لافانی نہیں ہو نا چاہئے 
تھا ۔یہاں تک کہ ایسے آثار و قرائن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ ماقبل تاریخ میں زندگی بسر کر نے والے لوگ بھی ایک قسم کے مذہب کے قائل تھے (ما قبل تاریخ کا 
زمانہ اس زمانہ کو کہتے ہیں کہ ابھی لکھائی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور انسان اپنی یاد گار کے طور پر تحریر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
البتہ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ چونکہ ابتدائی لوگ خدا کو ایک مافوق طبیعی وجود کی حیثیت سے نہیں پہچان سکتے تھے اس لئے اسے مادی مخلوقت کے در میان تلاش کرتے تھے اور اپنے لئے مادی مخلوقات سے بت بناتے تھے ۔لیکن انسان نے عقل و فکر کی تر قی کے ساتھ رفتہ رفتہ حق کو پہچان لیا اور مادی مخلوقات کے بنائے ہو ئے بتوں کو 
چھوڑ کر طبیعی کائنات کے ماوراء خدا کی لا محدود قدرت سے آگاہ ہوا۔
۲۔بعض ماہرین نفسیات نے صراحتاًکہاہے کہ انسان کی روح کے چارپہلو یا چار اصلی حس پائے جاتے ہیں:
۱۔”دانائی کی حس“: یہ حس انسان کوعلم و دانش حاصل کر نے کی ترغیب دیتی ہے اور اس کی روح کو علم حاصل کر نے کا شوق دلاتی ہے ،خواہ یہ علم اس کے لئے مادی فائدہ رکھتا ہو یانہ 
ہو۔
ب۔”بھلائی کی حس“یہ حس عالم بشریت میں اخلاقی اور انسانی مسائل کا سر چشمہ ہے۔
ج۔”زیبائی کی حس“:یہ حس،حقیقی معنی میں شعر،ادبیات اور فنّ وہنر کا سر چشمہ ہے۔
د۔”مذہبی حس“:یہ حس،انسان کو معرفت خدا اور اس کے فر مان کی اطاعت کر نے کی دعوت دیتی ہے ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی حس انسانی روح کی ایک بنیادی اور اصلی حس 
ہے ۔یعنی یہ حس نہ کبھی اس سے جدا تھی اور نہ کبھی جدا ہو گی۔
۳۔آئندہ بحثوں میں ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اکثر مادہ پرست اور منکرین خدا نے بھی ایک طرح سے خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے،اگر چہ وہ لوگ خدا کے نام لینے سے پرہیز 
کرتے ہیں اوراسے فطرت یا دوسرے نام سے پکارتے ہیں ،لیکن اس فطرت کے لئے ایسی صفتوں کے قائل ہوتے ہیں کہ جو خدا کی صفات کے مشابہ ہیں۔
مثلاًکہتے ہیں :فطرت نے اگر انسان کو دو گردے دئے ہیں،یہ اس لئے ہے کہ اسے معلوم تھا،ممکن ہے ان دو گردوں میں سے ایک خراب ہو جائے تو دوسرا گردہ اس کی زندگی کو جاری رکھ سکے ،وہ ایسی ہی تعبیرات بیان کرتے ہیں ۔کیا یہ بات ایک بے شعور فطرت کے ساتھ متناسب ہے ؟یا یہ کہ یہ ایک ایسے خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے جو لامحدود علم 
وقدرت کا مالک ہے،اگر چہ انہوں نے اس کا نام فطرت رکھا ہے۔
بحث کا نتیجہ
اس بحث میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ،اس سے یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں :
خدا کی محبت ہماری روح میں ہمیشہ موجود تھی اور ہو گی۔خدا کا ایمان ایک ایسا ابدی شعلہ ہے جو ہمارے قلب و روح کو گرم کر تا ہے۔خدا کی معرفت حاصل کر نے کے لئے ہم مجبور 
نہیں ہیں کہ طولانی راستے طے کریں،ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں میں نظر ڈالنی چاہئے،خدا پر ایمان کو ہم وہاں پر پائیں گے۔
قرآن مجید فر ماتا ہے:
 وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ(سورۂ ق/۱۶،پارہ۲۶)
”اور ہم اس سے رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے
۱۔عادت کی چند مثالیں اور فطرت کی چند مثالیں بیان کیجئے۔
۲۔نادان لوگ کیوں بت پرستی کے پیچھے جاتے تھے؟
۳۔مادہ پرست خدا کو کیوں”فطرت“ کے نام سے یاد کرتے ہیں؟


Tuesday, June 4, 2024

6- دَرس معرفت

بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

6 - دَرس4 جون 2024 | بروز:منگل 26 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

علمِ معرفت

معرفت خدا کے اسباق 


 پہلاسبق:خدا کی تلاش

۱۔کائنات سے واقفیت کا شوق

خلقت کائنات کے بارے میں آگاہی اور آشنائی حاصل کر نے کا شوق ہم سب میں پایا جاتاہے۔

یقینا ہم سب جاننا چاہتے ہیں:

خوبصورت ستاروں سے چمکتا ہوا یہ بلندوبالا آسمان ،دلکش مناظرسے بھری یہ وسیع زمین ،یہ رنگ برنگ مخلوقات،خوبصورت پرندے ،طرح طرح کی مچھلیاں ،سمندر اور پہاڑ،کلیاں اور پھول،سر بہ فلک قسم قسم کے درخت اور..کیا خود بخودپیدا ہو گئے ہیں یا یہ عجیب و غریب نقشے کسی ماہر ،قادر و غالب نقاش کے ہاتھوں کھینچے گئے ہیں؟

اس کے علاوہ ہماری زندگی میں ہم سب کے لئے جو ابتدائی سوالات پیدا ہو تے ہیں ،وہ یہ ہیں:

ہم کہاں سے آئے ہیں ؟کہاں پر ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟

اگرہم ان مذکورہ تینوں سوالات کے جواب جانیں تو کتنے خو ش قسمت ہوں گے؟یعنی ہم جا نیں کہ ہماری زندگی کا آغاز کہاں سے ہوا ہے اور سر انجام کہاں جائیں گے؟اور اس وقت ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ہمارا ضمیر ہم سے کہتا ہے :مذکورہ سوالات کے جواب حاصل کر نے تک آرام سے نہ بیٹھنا۔

کبھی کو ئی شخص ٹریفک حادثہ میں زخمی ہو کر بے ہوش ہو جا تا ہے اور معالجہ کے لئے اسے ہسپتال لے جاتے ہیں۔جب اس کی حالت قدرے بہتر ہو تی ہے اور وہ ہوش میں آتا ہے تو اپنے ارد گرد موجودافراد سے اس کا پہلا سوال یہ ہو تا ہے:یہ کون سی جگہ ہے؟مجھے کیوں یہاں لایا گیا ہے؟میں کب یہاں سے جاؤں گا؟اس سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان ایسے سوالات کے مقابلہ میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔اس لئے جو چیز ہمیں سب سے پہلے خدا کی تلاش اور خالق کائنات کی معرفت حاصل کر نے پر مجبور کرتی ہے ،وہ ہماری تشنہ اور متلاشی روح ہے۔


۲۔شکر گزاری کا احساس

فرض کیجئے آپ کی ایک محترم مہمان کی حیثیت سے دعوت کی گئی ہے اور آپ کی مہمان نوازی اور آرام و آسائش کے تمام وسائل مہیا کئے گئے ہیں ۔لیکن چونکہ یہ دعوت آپ کے بڑے بھائی کے توسط سے انجام پائی ہے اور اپنے اسی بھائی کے ہمراہ دعوت پر گئے ہیں اور وہ اپنے میز بان کو اچھی طرح سے نہیں پہچانتے،اس لئے اس دعوت پر پہنچتے ہی آپ سب سے پہلے اپنے میز بان کو پہچان کر اس کا شکریہ بجا لانے کی کوشش کریں گے۔

ہم بھی جب خالق کائنات کے بچھائے ہوئے خلقت کے اس وسیع دستر خوان پر نظر ڈالتے ہیں اور بینائی والی آنکھیں،سننے کے کان ،عقل وہوش،مختلف جسمانی اور نفسیاتی توانائیاں،زندگی کے مختلف وسائل اور پاک و پاکیزہ رزق جیسی گو نا گوں نعمتوں کو اس وسیع دستر خوان پر دیکھتے ہیں تو بے ساختہ اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں عطا کر نے والے کو پہچان لیںاور اگر چہ وہ ہمارے شکریہ کا محتاج بھی نہ ہو،ہمیں اس کا شکر یہ بجا لاناچاہئے اورجب تک یہ کام انجام نہ دیں،ہم بے چینی اور کمی کا احساس کرتے ہیں ،لہذا یہ ایک اور دلیل ہے جو ہمیں خدا کوپہچاننے کی طرف ترغیب دیتی ہے۔


۳۔خدا کی معرفت سے ہمارے نفع و نقصان کا تعلق

فرض کیجئے اپنے سفر کے راستہ پرآپ ایک چورا ہے پر پہنچے،وہاں پر شور وغل بر پا ہے،سب پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس چوراہے پر نہ رکئے،یہاں بڑے خطرات ہیں۔ لیکن ہر ایک ہماری الگ الگ راستے کی طرف راہنمائی کر تا ہے ۔ایک کہتا ہے :بہترین راستہ یہ ہے کہ مشرق کی طرف چلے جائیں،دوسرا مغرب کی طرف مطمئن ترین راستہ بتاتا ہے اور تیسرا ہمیں ان دو راستوں کے بیچ والے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ،اور کہتا ہے خطرہ سے بچنے کا اور منزل نیز امن وامان اور سعادت وخوش بختی کی جگہ تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔کیا ہم یہاں پر غور وفکر اور تحقیق کئے بغیر ان راستوں میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کریں گے؟یا ہماری عقل ہمیں یہ حکم دے گی کہ وہیں پر رکے رہیںاور کسی راستہ کا انتخاب نہ کریں؟قطعاًایسا نہیں ہے۔بلکہ عقل ہمیں حکم دیتی ہے کہ اس حالت میں جتنی جلد ممکن ہو تحقیق کریں اور ان افراد کی تجویزوں میں سے ہر ایک پر غور و فکر کے بعد 

جس کسی کے بارے میں صحیح اور سچ ہو نے کی نشانیاں اور اطمینان بخش دلائل موجود ہوں،اسے قبول کریں اور اطمینان کے ساتھ اس راہ کو منتخب کر کے آگے بڑھیں۔

اس دینوی زندگی میں بھی ہماری یہی حالت ہے ۔مختلف مذاہب اور مکاتب فکر میں سے ہر ایک ہمیں اپنی طرف دعوت دیتا ہے ۔لیکن چونکہ ہماری تقدیر،ہماری خوشبختی وبد بختی، ہماری ترقی وتنزل کا دار ومدار بہترین راستہ کی تحقیق اور اس کے انتخاب کرنے پر ہے،اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اس سلسلہ میں غور وفکر کریں اور جو راستہ ہماری ترقی و تکامل  کے  موجب ہو اسے اپنے لئے چن لیں اور جو ہماری نابودی ،بدبختی اور بربادی کا سبب ہو اس سے پر ہیز کریں۔یہ بھی ہمارے لئے خالق کائنات کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کر نے کی طرف دعوت کر نے کی ایک اور دلیل ہے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

فَبَشِّرْ (17)عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ(18) (سورہ الزمر پارہ 23)

” میرے ان بندوں کو بشارت دیجئے،جو مختلف باتوں کو سنتے ہیں اور ان میں جو بات اچھی ہو تی ہے اسی کا اتباع کرتے ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے:

۱۔کیاآپ نے خدا کی معرفت کے سلسلہ میں جو کچھ آج تک اپنے ماں باپ سے سناہے ،اس کے علاوہ اس بارے میں خودبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے ؟

۲۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خدا کی تلاش اور خدا کی معرفت میں کیا فرق ہے؟

۳۔کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے دوران کبھی ایک عمیق روحانی لذت کا احساس کیا ہے؟



زحالِ مسکیں  مکن تغافل دوراے نیناں بنائے  بتیاں 

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں 


جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا 

تو  ہی   آیا  نظر   جدھر  دیکھا 


بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے 

تو  دل میں تو  آتا ہے  سمجھ میں نہیں آتا


 سامنے  ہے  جو  اسے  لوگ  برا کہتے ہیں

 جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں


تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں 

تجھے  ہر  بہانے سے ہم دیکھتے ہیں





Monday, June 3, 2024

5- دَرس معرفت


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

5- دَرس 2جون 2024 | بروز:اتوار24 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


  علمِ معرفت اور خود کلامی 
نشانِ پا بھی پہنچا تو دیا کرتے ہیں منزل تک مگر فیضانِ میرِ کارواں کچھ اور ہوتا ہے
شریعت کے بغیر معرفت نہیں ہو سکتی۔ اور بغیر شریعت کے معرفت کا دعوی کرنے والا شخص جھوٹا ہوتا ہے۔کوئی بھی کامل ولی، صوفی بزرگ تارک نماز نہیں ہو سکتا۔ جو تارک نماز ہو یا شریعت پر عمل پیرا نہ ہو یا ارکان اسلام پر عمل پیرا نہ ہو تو وہ شخص ولی اور صوفی نہیں ہو سکتا۔ایسا شخص جھوٹا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اور اگر  کوئی شریعت کی مخالفت کر رہا ہے تو وہ شیطان ہے۔ ولی اور صوفی اور بزرگ یعنی ولایت اور تصوف کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جسم مادی دنیا میں روح کی سواری ہے۔ جبکہ روح امر ربی سے ہے۔ جسم اور روح کا ملاپ شعور کو جنم دیتا ہے ۔ اس شعور کو نفس کہتے ہیں۔ بغیر روح و بدن کے ملاپ کے نفس وجود نہیں رکھتا۔نفس کی موجود گی روح کے عالم مادہ میں سفر کی سہولت کاری کرتی ہے۔ نفس روح و بدن کی مجموعے کو اسکا ادارک اور اہمیت کا احساس  دلاتا ہے۔ نفس کو ڈائیور کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر روح کی حکومت ہو تو بندہ مومن ، اور اگر نفس کی حکومت ہو تو بندہ بھٹکا ہوا اور مانند جانور۔
نفس نے چونکہ عالم مادہ میں کام کرنا ہوتا ہے اس لئے کئی بار اُس کی توجہ کا محور عالم مادیت بن کر رہ جاتا ہے لیکن اگر روح طاقتور ہو جو صرف اللہ کی عطا سے ہی ممکن ہے اور نفس کو کنٹرول رکھے تو وقت تخلیق سے شروع ہوا سفر ،اس مادی مرحلے میں بھی تیزی سے جاری رہتا ہے۔نفس کی تین بڑی قسمیں ہیں۔ 
اول نفس امارہ ، یہ بے لگام ہے، من مانی کرتا ہے۔ اس ڈرائیور نے سوار کو بے اہمیت کررکھا ہے من مانیان کرتا ہے اور مادی عیاشیوں کی حرس میں راہ غلط پر چلتا ہے۔
دوسری قسم نفس لوامہ ہے۔ یہ روح کی بات بھی مانتا ہے اور جسم کی خواہشات کا بھی کہنا مانتا ہے۔ یہ کنفیوز نفس ہے ۔جو نیکی اور بدی کے درمیان ڈولتا ہے۔
تیسری قسم نفس مطمئینہ ہے۔ یہ نفس وہ نفس ہے جس سے متعلق قرآن پاک میں آیا کہ اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔ اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ اور کاملہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں اس مقام پر  بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے۔
معرفت کا مطلب اپنے رب کو پہچاننا ہے۔ جوں جوں نفس معرفت پاتا جاتا ہے۔۔ وہ اپنی ترقی کے مراحل طے کرتا جاتا ہے۔علم سے حاصل کردہ ادراک معرفت کی بدولت عین القین کی منازل پا کر آئین فطرت کا پابند ہو جاتا ہے۔جو چیزیں حواس کی زد میں ہوں اُن کی پہچان علم کرواتا ہے ۔اللہ رب العزت بے مثل ہے۔ اپنی ذات ، اپنی صفات میں بے مثل۔۔۔ اللہ رب العزت زمان و مکان و مادہ و روح کا خالق ہے۔ اس کی ذات تک علم کی بدولت پہنچا تو جا سکتا ہے لیکن اُس کے وجود و صفات کا ادراک اُس ذات باری تعالٰی کی عطا سے ہی ممکن ہے، اور اس عطا کو ہی معرفت کہا جاتا ہے ۔کچھ خیالات کئی دن سے ذہن کا گھیرائو کئے ہوئے تھے آج انہیں تحریر میں لایا ہوں ۔۔۔ امید ہے آپ میری رائے پر اپنی فیڈ بیک ضرور دین گے۔
1۔ سائیکل چلانے والے کے لئے تیز رفتاری کی کیفیت ، 1000 سی سی موٹر سائیکل چلانے کے لئے تیز رفتاری اور ریسنگ کار چلانے والے کے لئے تیز رفتاری کی  کیفیات اور معنی الگ ہیں۔
2۔ ایک چیونٹی کے لئے زمان و مکان کا نظریہ وہ نہیں جو ایک 6 فٹ کے انسان کے لئے ہے۔ انسان کے چند میٹر چیونٹی کے لئے کلومیٹر بن جاتے ہیں۔
3۔ ایک بلی انسان کے مقابلے میں میچورٹی اور گروتھ کی منازل کئی گنا تیزی سے پار کر جاتی ہے۔ ایک انسان کا بچہ جب ایک سال کا ہوتا ہے تو اُس وقت بلی اُس  کے مقابلے میں8 سال کی عمر کا ہو چکا ہوتا ہے۔
4۔ زمین کا ایک سال 365 دن اور مرکری کا ایک سال 88 دن کا ہوتا ہے۔ یعنی مرکری پر رہنے والا زمین والے اپنے ہم عمر سے زیادہ جلدی عمر رسیدہ ہو جائے گا۔
5۔ کلومیٹر کا راستہ ایک پیدل چلنے والے، ایک سائیکل سوار، ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی پر طے کرنے والے کے لئے مختلف محسوسات اور کیفیات اور زمان و مکان کے مختلف تجربات اور حقیقتون کا ادراک لائے گا۔
پہلا خیال معرفت با ذریعہ منازل لگائو یا عشق ہے۔ یعنی جتنی محبت منزل سے ہو گی۔ روح بھی اُتنی فوکس اور طاقتور ہو گی۔ نیت کی صداقت اور پھر عمل کی مخلصی  مجاہدات کو آسان اور منزل کو قریب کر دیتی ہے۔
دوسرا خیال معرفت با ذریعہ علم و تجربات ہے۔
تیسرا خیال معرفت با ذریعہ جدوجہد اخلاق و کردار ہے۔
چوتھا خیال ,خیال کی پرواز اور ظرف کا مقام ظاہر کرتا ہے ۔ جتنی مضبوط نیت پھر جتنا مضبوط تعلق ، اُتنی ہی قربت ۔ اور جتنی قربت اُتنی ہی نزدیک منازل
پانچواں خیال بھی مُرشد یا استاد کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔مرشد جتنا کامل اُتنی جلدی منزل ۔
اللہ کی ”رحمت سے مایوس نہ ہونا، گناہ کوکوئی طاقتور شے نہ سمجھنا،  گناہ کوئی ایسی شے نہیں ہے کیونکہ وہ معاف کرنے والا ”ہمیشہ سے معاف کرتا آرہا ہے، “:: معاف کرنا جو ہے وہ اس کا شوق ہے،: ایک جگہ اللہ فرماتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ تم انسان ہو'میں نے خود پیدا کیا ہے'میں جانتا ہوں کہ تم ”ضعیف ہو،کمزور ہو، اس لئے میں نے تمہارے لئے اپنی ””رحمت بنائی““ ہے۔  ورنہ اللہ کا کام یہ تھا کہ وہ وارننگ دینے والا ہے۔ : آپﷺ  ”بشیرا “ و نزیرا :: بشارتیں دینے والے اور وارننگ دینے والے آئے: مصدقاً سچ بولنے والے: اور سچ ثابت کرنے والے بن کہ آئے مگر آپﷺ کا ٹائٹل کیا ہے رحمتہ اللعالمین ﷺ! ورنہ وارننگ ہو جاتی اور جس وقت اسلام آیا تھا اسی وقت فیصلہ ہو جاتا کہ دودھ ایک طرف کر دو اور پانی ایک طرف کر دو' کافروں کو ہلاک کر دو۔بات ختم ہو جاتی۔ مگر ایسا نہیں۔ کافر جو ہیں آپ کیلئے نرسری ہیں'اس سے آپ کو خوراک چاہئےیہیں سے ””اسلام کے پودے““ باہر آنے ہیں ۔ ””“ افسوس تو یہ ہے کہ“ آپ اپنے آپ کو بھی سچا نہیں سمجھتے ہو۔ پھر خود کو ”اتنا سچا سمجھتے“ ہو کہ  باقی سب کو ”جھوٹا سمجھنے لگ جاتے ہو۔ “  یہ بھی ” افسوس کی بات ہے۔ “  تمہیں کہتے ہو کہ سچے ہو جاؤ تو کہتے ہو کہ ہم سچے نہیں ہو سکتے۔پھر کہتے ہیں کہ ہو جاؤ۔چلو ہو گئے۔ :: اب کیا ہے؟  کہتا ہے کہ باقی ” سارے جھوٹے نظر“ آرہے ہیں'باباجی نے آپ کو اس بات سے بچایا تھا کہ'تم ”اتنے حق والے نہ ہو جانا کہ سارے ہی برے نظر آئیں۔“حق کی آواز حق ہے۔عین حق ہے بلکہ پورا حق ہے'ساری چیز ٹھیک ہے'ہم بھی حق ہیں'تم بھی حق
 ہو'تجھے بھی اسی اللہ نے بنایا،مجھے بھی  اسی اللہ نے بنایا، اور اس کے ”سارے کام صحیح“ ہیں۔ اس کے کسی کام کو برا نہیں کہہ سکتے۔
  ““موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے رب العالمین تیری سب باتیں سمجھ آ گئی ہیں،یہ نہیں پتہ چلا کہ چھپکلی کیوں پیدا فرمائی۔: اللہ نے فرمایا کہ: ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو کیوں بنایا۔یعنی کہ اس کی دنیا میں تیرے جیسے انسان کا وجود نہیں ہے۔" اب یہ اللہ کے کام ہیں کہ وہ چھپکلی بنانے والا موسیٰ علیہ السلام کو بھی بناتا ہے۔ ":: اس لئے چھپکلی بھی حق ہے:: اور موسیٰ علیہ السلام بھی برحق ہیں۔:: کمال کی بات تو یہ ہے کہ وہ "شیر پیدا" کرتا ہے تو،،،،، "گیڈر بھی پیدا" کرتا ہے۔ :: شیر گیڈر اور لومڑ جو ہیں یہ سارے انسانوں کے نام ہیں،شکلیں جانوروں کی ہیں،یہ آسان بات ہے مشکل نہیں ہے۔ہر انسان کی جتنی صفات ہیں'کائنات کے جتنے پرندے ہیں،جتنے جانور ہیں،ان میں مکمل طور پر وہ صفت موجود ہے۔شیر تو ہے ہی انسان کا ٹائٹل۔: آپ کہتے ہیں نہ کہ شیر الٰہی قُطب ربانی اور شیر ربانی اسد اللہ الغالب مطلوب کل طالب۔یہ ایک مقام ہے۔ ""کوئی بھی جانور لے لو'اس میں کوئی نہ کوئی صفت خصوصیت کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ کسی" انسان میں ضرور پائی جاتی ہے۔ ": آپ نے "آستین کا سانپ" تو دیکھا ہوا ہی ہے۔یہ نہ کہنا کہ ہمارے "اکثر دوست" ہوتے ہیں۔: دوستوں کے خلاف بول رہے ہو کیا؟مطلب یہ ہے کہ ہر چیز جو ہے وہ موجود ہے۔”کمزور(ڈرپوک)کو گیدڑ کہتے ہیں،“: شاہین کی جھپٹ، : چیتے کی آنکھ  یہ "" ساری انسانوں کی باتیں"" ہیں۔: جتنی بھی ایسی صفات ملیں گی'وہ انسانوں میں ہوں گی۔ ""اللہ تعالٰی نے آپکی صفات کو پوری شکل دے کے یہ مظاہرہ کیا کہ دیکھ لو یہ کیا ہے۔: محنت کرنے کی صفت چیونٹی میں ڈالی': بیچاری نے یہاں سے ایک دانہ اٹھایا اور وہاں جا کہ رکھ کے آگئی۔بیچاری چیونٹی شاہین کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے کہ " تو  اتنا بلند ہے  اور میں "زمین" پر ہوں 'تو بات کیا ہے۔ ":: شاہین نے کہا کہ بڑی آسان بات ہے۔تو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاکِ راہ میںمیں نہُ سپہر کو نہیں لاتا نگاہ میں  !یہ تیرا میرا فرق ہے'میرا مقام ستاروں سے یوں بلند ہےکہ میں آسمانوں کو نگاہ میں نہیں لاتا اور تو خاک کے اندر رینگتی ہوئی دانے اکٹھتے کرتی جارہی ہے۔ دانے کا معنٰی؟ زق'دولت'چننا'پیسہ'جمع'گننا۔یہ چیونٹی کی زندگی ہے اور ہر شے سے بے نیاز ہو کے بلند نگاہی شاہین کا تصور ہے۔ :: اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپ اس کائنات میں انسان ہو کے توبہ کرو  اور :: گناہ کا زکر نہ کرو۔:
 توبہ کرنے کے بعد اگر یہ کہتے ہیں کہ:  اللہ معاف نہیں کرسکتا تو پھر یہ بڑا ہی "کلمہٓ کفر" ہے۔ : اللہ کیسے نہیں معاف کر سکتا۔:
 اللہ چاہے تو سب کر سکتا ہے :آپ معاف کرو اور اپنے آپ پر رحم کرو۔

میری دعا ہے آپ سب کے لیئے  اس جہانِ رنگ و بوُ میں اگر کوئی چیز صحیح معنوں میں اپنا حقیقی اور کامل وجود رکھتی ہے تو 
وہ اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔ باقی ہر چیز نسبتی ہے۔ فریم آف ریفرنس بدلنے سے محسوسات، کیفیات اور زمان و مکاں کی تعریف بھی بدل جاتی ہے۔ اللہ رب العزت آپ کو سدا یونہی علم و دانش 
کی قندیلیں روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔





Friday, May 31, 2024

درسِ معرفت نمبر 4

 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

4 - دَرس 2جون 2024 | بروز:اتوار24 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی



 علمِ معرفت 

علم کسی آدمی کے اندرمعرفت کی ابتدائی صلاحیت پیدا کرتا ہے، یعنی چیزوں پر گہرائی کے ساتھ غور وفکر کرنا۔ جب کوئی شخص معرفت کو اپنا مرکزِ توجہ بناتا ہے، ۜوہ مسلسل طور پر اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیقات میں خالق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس  غور وفکر کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی  ہے۔اسی شخصیت کا  نام عارف انسان ہے۔
جس شخص کو اِس قسم کی معرفت حاصل ہوجائے، وہ انتہائی سنجیدہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عارفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔اس کی عبادت اور اس کے اخلاق ومعاملات میں معرفت کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کا لگاؤ سب سے زیادہ اُن چیزوں میں ہوجاتا ہے جو معرفت کی غذا دینے والی ہوں۔ وہ معرفت کے ماحول میں جیتا ہے اور معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔
عوارف المعارف میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے فرمایا کہ :
شیخ یحیٰی بن معاذ رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ جبتک بندہ طلب معرفت میں مصروف رہتا ھے اس وقت تک اس سے یہی کہا جاتاہھے تم کچھ نہ اختیار کرو پسند نہ کرو اور اپنے اختیار و ذاتی خواہش سے کام نہ لو جب تک تم کو معرفت حاصل نہ ہو جائے ۔جب اُس کو معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ عارف بن جاتا ہے، تو اس وقت اس سے یہ کہا جاتا ہے چاہو تو اختیار کرو چاہو تو بے اختیار رہو ۔دونوں صورتیں یکساں ہیں یعنی اگر تم بے اختیار بنو گے تو وہ اختیارات ہمارے ہی ہونگے اور اگر تم با اختیار بنو گے تو یہ بھی ہمارے ہی حکم اور اختیار میں ہو گا ،وجہ اسکی یہ ہے کہ اختیار اور ترک اختیار دونوں صورتوں میں تمہارا ہمارے ساتھ تعلق ہے،یہ ایسا بلند مقام اور معزز ترین حال ہے کہ بندہ اس مقام عالی اور معزز حال پر اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اختیار سے نکلنے اور تدبیر ترک کرنے کے بعد مالک اختیار نہ بن 
جائے ۔ان مزکورہ چار درجات کو طے کرے کیونکہ ترک تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ ہستی کو فنا کر دیا گیا ہے (یہ مقام فنا ہے )۔
اسکے بعد جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے تدبیر و اختیار اس کو دوبارہ عطا ہو جائیں تو یہ مقام بقا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی عارضی ہستی کو فنا کر کے حق کیساتھ شامل ہو گیا ہے۔ اس منزل و مقام پر پہنچ کر بندہ حق میں ذرہ برابر کجی نہیں رہتی اور مقام عبودیت میں اس کے ظاھر و باطن دونوں متحقق اور درست ہو گئے ہیں اور باطنی علم و عمل سے وہ معمورہو گیا ہے ۔اب وہ بارگاہ ِقرب کے مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو عجز و فقر کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد گرامی کا اس پر اطلاق ہورہا ہے ۔بار الٰہا تو مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی میرے نفس یا اپنی کسی مخلوق کے سپرد نہ فرما ورنہ 
میں ضائع ہوجاؤں گا تو میری اسی طرح حفاظت فرما جیسے نوزائیدہ بچے کی فرماتا ہے اور مجھے اکیلا نہ چھوڑ ۔
اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقاﷺ  کے جوابات
        حضرتِ سیِّدُنا جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں  :  حضرتِ سیدنا ابوالعباسؒ  طلبِ عِلْم کے  لئے مِصْر  گئے، وہاں  پرانہوں  نے حدیث  کے بہت بڑے عالم حضرت سیدنا ابوحامد مصری  ؒ سے حدیث  خالد بن ولیدؓسنانے کی درخواست کی تو انہوں  نے مجھے ایک سال کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ اُن کے اِس حکم پر عمل کے بعد حضرتِ سیدنا ابوالعباسؒ  دوبارہ حاضرِ خدمت ہو ئے  تو حضرت سیدنا ابوحامد مصری  ؒ  نے اپنی سند سے حدیث  خالد بن ولیدؓ  سنا ئی  ۔چنانچہ حضرت سیدنا خالد بن ولید ؓ ُ سے روایت ہے کہ ایک اَعرابی (یعنی دیہات کا رہنے والا) نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں حاضر ی دی اور عرض کی :
 دنیا وآخرت کے بارے میں  کچھ پوچھنا چاہتا ہوں  توجانِ کائنات ﷺنے ارشاد فرمایا : پوچھو! جو پوچھنا چاہتے ہو۔
آنے والے نے عرض کی : میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں  ۔
جانِ کائنات ﷺنے ارشادفرمایا : اللہ سے ڈرو، سب سے بڑے عالم بن جا ؤگے ۔
عرض کی :  میں  سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : قناعت اِختیار کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
عرض کی :  میں  لوگوں  میں  سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : لوگوں میں  سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں  کو نفع پہنچاتا ہو ، تم لوگوں  کی لئے نفع بخش بن جا ؤ ۔     
عرض کی :  میں  چاہتا ہوں  کہ سب سے زیادہ عدل کرنے والا بن جاؤں  ۔
 ارشادفرمایا : جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں  کی لئے بھی پسند کرو، سب سے زیادہ عادِل بن جا ؤگے۔
عرض کی :  میں  بار گاہِ الٰہی میں  خاص مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : ذکرُ اللّٰہ کی کثرت کرو،  اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جا ؤگے ۔
عرض کی :  اچھا اور نیک بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا :  اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں  دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں  دیکھ ہی رہا ہے۔
عرض کی :  میں  کامِل ایمان والا بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : اپنے اخلاق اچھے کر لو، کامل ایمان والے بن جا ؤگے۔
عرض کی :  (اللہ تعالیٰ کا) فرمانبردار بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرا ئض  کا اہتمام کرو، اس کے مُطِیع( وفرمانبردار) بن جا ؤگے۔
عرض کی :  (روزقیامت) گناہوں  سے پاک ہوکر اللہ تعالیٰ  سے ملنا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا :  غسلِ جنابت خوب اچھی طرح کیا کرو،  اللہ تعالیٰ  سے اس حال میں  ملو گے کہ تم پر کو ئی  گناہ نہ ہوگا۔     
عرض کی :  میں چاہتا ہوں کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں  ہو۔
ارشادفرمایا : کسی پر ظُلْم مت کرو، تمہارا حَشْر نُور میں  ہوگا۔
عرض کی :  میں  چاہتا ہوں  کہ اللہ تعالیٰ  مجھ پر رحم فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا : اپنی جان پر اور مخلوقِ خدا پر رحم کرو ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرما ئے  گا۔
عرض کی : گناہوں  میں  کمی چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا :  اِستغفار کرو، گناہوں  میں  کمی ہوگی۔
عرض کی :  زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : لوگوں  کے سامنے  اللہ تعالیٰ  کے بارے میں  شکوہ وشکایت مت کرو، سب سے زیادہ عزت دار بن جا ؤگے۔
عرض کی : رِزْق میں  کشادگی چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : ہمیشہ باوضو رہو، تمہارے رزق میں  فراخی آ ئے  گی ۔
عرض کی : ا للہ  و رسول کا محبوب بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : اللہ ورسول کی محبوب چیزوں  کو محبوب اور ناپسند چیزوں  کو ناپسند رکھو۔
عرض کی :  اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان کا طلب گار ہوں ۔
 ارشادفرمایا : کسی پر غصہ مت کرو،  اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان پاجا ؤگے۔
عرض کی : دعاؤں  کی قبولیت چاہتا ہوں  ۔   
 ارشادفرمایا : حرام سے بچو، تمہاری دعا  ئیں قبول ہوں  گی۔
عرض کی :  چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے لوگوں  کے سامنے رُسوا نہ فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا : اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو ، لوگوں  کے سامنے رُسوا نہیں  ہوگے۔
عرض کی : چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری پردہ پوشی فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا :   اپنے مسلمان بھائیو ں  کے عیب چھپا ؤ ، اللہ تعالیٰ تمہاری  پردہ پوشی فرما ئے  گا۔
عرض کی :  کون سی چیز میرے گناہوں  کو مٹاسکتی ہے؟
 ارشادفرمایا : آنسو، عاجزی اور بیماری ۔
عرض کی :  کون سی نیکی  اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہے؟
 ارشادفرمایا : اچھے اخلاق، تواضُع، مصاءب پر صبر اور تقدیر پر راضی رہنا۔
عرض کی : سب سے بڑی برا ئی  کیا ہے؟ کون سی برا ئی اللہ تعالیٰ  کے نزدیک سب سے بڑی ہے؟
 ارشادفرمایا : برے اخلاق اور بُخْل ۔
عرض کی :  اللہ تعالیٰ کے غَضَب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟
  ارشادفرمایا : چپکے چپکے صدقہ کرنااور صِلہ رحمی۔
عرض کی : کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے؟   
 ارشادفرمایا : روزہ۔
(جامع الاحادیث ، ۱۹/ ۴۰۵ ، حدیث  :  ۱۴۹۲۲)


درسِ معرفت نمبر 3

 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

3  - دَرس 1 جون 2024 | بروز:ہفتہ 23 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

 علمِ معرفت 

معرفت ِ الٰہی کی جستجو انسان کو رب العالمین سے قریب تر کردیتی ہے

انسانوں پر نئے انکشافات کے دروازے  جستجو، تلاش اور پھر شناخت کے صدقے میں کھلتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انسان مختلف شعبہ ہائے حیات میں قابل قدر ترقی کرتا ہے اور یہی سلسلہ حتمی طور پر عروج انسانی کی ضمانت بنتا ہے؛ کیونکہ جہاں یہ  سلسلہ رکتا ہے وہیں سے جمود و تعطل کا آغاز ہوتا ہے اور وہیں سے انسان روشنی سے اندھیرے میں پہنچ جاتا ہے۔

بعینہ یہی نقشہ اور طریقہ معرفت الٰہی کا یعنی اللہ رب العزت کو کما حقہ جاننے اور پہچاننے کا ہے؛ چنانچہ جب تک  انسان معرفت الٰہی کی جستجو اور حصول میں مست و مگن رہتا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن کریم پر تدبر کرتا ہے، اس کے پیارے ناموں اور بلند صفات کو اپنی زندگی میں لازم پکڑتا ہے اور ان کے معانی اور اثرات پر غور کرتا ہے نیز انہی کیفیات کے ساتھ کثرت سے اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اس وقت تک انسان کی ترقی ہوتی رہتی ہے اور اس کو کامیابی ملتی رہتی ہے۔ اس عمل سے انسان کو معرفت کی راہ میں وہ منزل مل جاتی ہے جو حاصل عبدیت ہے، جیسا کہ سورہ ذاریات آیت ۵۶؍ میں فرمایا گیا: ’’اور میں نے جنا ّت اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔‘‘ اس آیت میں لیعبدون کی تشریح رئیس المفسرین حضرت عبداللہ  ابن عباس ؓ نے لیعرفون سےکی ہے۔ اس کا خلا صہ یہ نکلتا ہے کہ تخلیق انسانی کا مقصد معرفت والی عبادت ہے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی ہر علم کی بنیاد ہے اور یہ معرفت بندہ کی سعادت، کمال اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اس سے لاعلمی کا مطلب بندے کا اپنے نفس، اس کے آداب اور طریقہ کار سے لاعلمی ہےکہ اس لاعلمی سے نہ پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور نہ کامیابی۔‘‘ 

ہمارے لئے یہاں اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم معرفت باری تعالیٰ کے باب میں اس مقام پر ہیں جہاں سے ہماری روحانی پرواز بلند سے بلند تر ہوسکے اور اس سبق میں ہم روز بروز آگے بڑھ سکیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر کے پاس اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں ہے؛ کیونکہ معرفت باری تعالیٰ کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں دُنیا کے ہر ذرے سے اور تخلیق باری تعالیٰ کے ہر جزو سے اللہ کے عظیم الشان ہونے کا یقین کامل ہو۔ لیکن افسوس کہ بات یہ ہے کہ حقیقت حال ایسی نہیں ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ تخلیق باری تعالیٰ اور عجائبات دنیا کو دیکھ کر باری تعالیٰ تک پہنچنے کے بجائے انہی چیزوں میں کبھی کھو کر اور کبھی الجھ کر رہ جاتے ہیں۔  ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم نے خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ 

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ معرفت ِ ربانی میں پہلا مرحلہ اطاعت الٰہی ہے کیونکہ بندہ صحيح معنوں میں اطاعت ِ الٰہی کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے جب اسے اﷲ رب العزت کی معرفت حاصل ہو۔ اس سے آگے ہمارے لئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معرفت اور محبت لازم و ملزوم ہیں کہ جب ہم اللہ رب العزت کی عظمت کو جان کر اطاعت کے راستے معرفت کا جام پیتے ہیں تو ہم محبت باری تعالیٰ کے اسیر بن جاتے ہیں۔یہی وہ مقام ہوتا ہے جب انسان خود سے جدا ہوکر ہر لحظہ اللہ رب العزت کی معیت میں چلا جاتا ہے۔ اس حساب میں تفریق (خود سے جدا ہونا) پہلے ہوتا ہے اور جمع (معیت باری تعالیٰ کا احساس) بعد میں ہوتا ہے۔ 

معرفت و محبت کے اس فلسفے کو انسانی عقل سے قریب ایک مثال سے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ایک انسان کی دوسرے انسان سے دوستی ہے تو وہ انسان اپنے دوست سے متعلق تمام چیزوں کو بھی بنظر محبت اس وجہ سے دیکھتا ہے کہ وہ اس کے دوست سے منسوب ہیں۔ اس عمل کے درمیان اگر دوستی کرنے والا انسان دوست کے بجائے دوست سے منسوب چیزوں میں کھو جائے اور ان کو مقصود بنالے تو یہ شخص دُنیا کی نظر میں بے وفا اور نامراد کہلائے گا۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی اللہ سے محبت کا دعویٰ تو کرے مگر وہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں اس طرح کھو جائے کہ مقصود حقیقی اللہ رب العزت سے ہی دور ہو جائے تو یہ شخص بھی شریعت کی نظر میں بے وفا اور نا مراد گردانا جائے گا۔ یاد رکھئے! اللہ رب العزت کے تعلق سےعدم معرفت اور فقدان محبت ہی ہماری تمام پریشانیوں کی اصل بنیاد اور محرومیوں کی کلیدی وجہ  ہے۔ وہ لوگ جو اس جرم کے مرتکب ہیں، اللہ رب العزت نے اس طرح کے لوگوں کے تعلق سےصاف طور پر قرآن مجید میں یہ ارشاد فرما دیا ہے:
مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج:۷۴)
’’اللہ تعالیٰ کی جیسی تعظیم کرنی چاہئے تھی، ان لوگوں نے نہیں کی، یقیناً اللہ بڑے طاقتور اور سب پر غالب ہیں۔‘‘ 
ایک اعرابی نے نبی پاک ﷺ سے پُوچھا کہ ، ”حشر میں ہمارا حساب کون لے گا ؟“

میرے مالک ومرشد خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے ایک مقام پر فرمایا تھا بحوالہ
 حضرت اِمام بیہقی ( ابُوبکر احمّد بن حُسین البيهقي (المتوفى: 458هـ) نے ”شعبَ الایمان“ میں نقل فرمائی ہے۔
ایک اعرابی نے نبی پاک ﷺ سے پُوچھا کہ ، ”حشر میں ہمارا حساب کون لے گا ؟“
آپ ﷺ نے فرمایا ”اللہ“۔
اعرابی کہنے لگا ، کیا واقعی اللہ (خود حساب لے گا ) ؟
آپ ﷺ نے فرمایا ، ”ہاں خود اللہ حساب لے گا.“
اعرابی خوشی سے جُھوم اُٹھا اور چلتے چلتے کہنے لگا ، ”بخدا تب تو ہم نجات پا گئے“۔
آپ ﷺ نے پُوچھا ، ”کیسے ؟“ 
اعرابی بولا ، ”کریم جب قابُو پا لیتا ہے ، تو معاف کر دیتا ہے“۔
اعرابی چلا گیا مگر جب تک نظر آتا رہا حضورﷺ اُس کا جملہ دُھرا کر فرماتے رہے ”قَد وَجد رَبہ ، قَد وَجد رَبہ“
اُس نے رَب کو پہچان لیا ، بدُو اپنے رب تک پہنچ گیا۔
’معرفت شناسی، وہ علم ہے جس میں خود علم کے حصول کے امکان، ذرائع، طریقۂ کاراور درستی یا نادرستی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم کے کئی شعبے ہیں۔ مثال کے طورپر ’’خدا شناسی‘‘۔ علم کا وہ شعبہ ہے کہ جس میں خدا کے وجود اور خدا کی صفات ثبوتیہ یا سلبیہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ ریاضی وہ علم ہے کہ جس میں ہندسے اور حساب کے موضوع کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ انسان شناسی، علم کا وہ شعبہ ہے کہ جس میں انسان کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اسی طرح علم کے سینکڑوں دیگر شعبہ جات ہیں کہ جن میں ہستی کی کسی نہ کسی حقیقت اور کسی نہ کسی  موضوع پر بحث کی جاتی ہے۔

 خلاصہ یہ  ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو پُر امن، پُرلطف اور رو بہ ترقی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس راستے پر چلنا ہوگا جس راستے پر چل کر ہم معرفت الٰہی اور محبت باری تعالیٰ میں آگے بڑھ سکیں۔