صفحات

Friday, May 31, 2024

درسِ معرفت نمبر 4

 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

4 - دَرس 2جون 2024 | بروز:اتوار24 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی



 علمِ معرفت 

علم کسی آدمی کے اندرمعرفت کی ابتدائی صلاحیت پیدا کرتا ہے، یعنی چیزوں پر گہرائی کے ساتھ غور وفکر کرنا۔ جب کوئی شخص معرفت کو اپنا مرکزِ توجہ بناتا ہے، ۜوہ مسلسل طور پر اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیقات میں خالق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس  غور وفکر کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی  ہے۔اسی شخصیت کا  نام عارف انسان ہے۔
جس شخص کو اِس قسم کی معرفت حاصل ہوجائے، وہ انتہائی سنجیدہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عارفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔اس کی عبادت اور اس کے اخلاق ومعاملات میں معرفت کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کا لگاؤ سب سے زیادہ اُن چیزوں میں ہوجاتا ہے جو معرفت کی غذا دینے والی ہوں۔ وہ معرفت کے ماحول میں جیتا ہے اور معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔
عوارف المعارف میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے فرمایا کہ :
شیخ یحیٰی بن معاذ رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ جبتک بندہ طلب معرفت میں مصروف رہتا ھے اس وقت تک اس سے یہی کہا جاتاہھے تم کچھ نہ اختیار کرو پسند نہ کرو اور اپنے اختیار و ذاتی خواہش سے کام نہ لو جب تک تم کو معرفت حاصل نہ ہو جائے ۔جب اُس کو معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ عارف بن جاتا ہے، تو اس وقت اس سے یہ کہا جاتا ہے چاہو تو اختیار کرو چاہو تو بے اختیار رہو ۔دونوں صورتیں یکساں ہیں یعنی اگر تم بے اختیار بنو گے تو وہ اختیارات ہمارے ہی ہونگے اور اگر تم با اختیار بنو گے تو یہ بھی ہمارے ہی حکم اور اختیار میں ہو گا ،وجہ اسکی یہ ہے کہ اختیار اور ترک اختیار دونوں صورتوں میں تمہارا ہمارے ساتھ تعلق ہے،یہ ایسا بلند مقام اور معزز ترین حال ہے کہ بندہ اس مقام عالی اور معزز حال پر اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اختیار سے نکلنے اور تدبیر ترک کرنے کے بعد مالک اختیار نہ بن 
جائے ۔ان مزکورہ چار درجات کو طے کرے کیونکہ ترک تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ ہستی کو فنا کر دیا گیا ہے (یہ مقام فنا ہے )۔
اسکے بعد جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے تدبیر و اختیار اس کو دوبارہ عطا ہو جائیں تو یہ مقام بقا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی عارضی ہستی کو فنا کر کے حق کیساتھ شامل ہو گیا ہے۔ اس منزل و مقام پر پہنچ کر بندہ حق میں ذرہ برابر کجی نہیں رہتی اور مقام عبودیت میں اس کے ظاھر و باطن دونوں متحقق اور درست ہو گئے ہیں اور باطنی علم و عمل سے وہ معمورہو گیا ہے ۔اب وہ بارگاہ ِقرب کے مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو عجز و فقر کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد گرامی کا اس پر اطلاق ہورہا ہے ۔بار الٰہا تو مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی میرے نفس یا اپنی کسی مخلوق کے سپرد نہ فرما ورنہ 
میں ضائع ہوجاؤں گا تو میری اسی طرح حفاظت فرما جیسے نوزائیدہ بچے کی فرماتا ہے اور مجھے اکیلا نہ چھوڑ ۔
اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقاﷺ  کے جوابات
        حضرتِ سیِّدُنا جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں  :  حضرتِ سیدنا ابوالعباسؒ  طلبِ عِلْم کے  لئے مِصْر  گئے، وہاں  پرانہوں  نے حدیث  کے بہت بڑے عالم حضرت سیدنا ابوحامد مصری  ؒ سے حدیث  خالد بن ولیدؓسنانے کی درخواست کی تو انہوں  نے مجھے ایک سال کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ اُن کے اِس حکم پر عمل کے بعد حضرتِ سیدنا ابوالعباسؒ  دوبارہ حاضرِ خدمت ہو ئے  تو حضرت سیدنا ابوحامد مصری  ؒ  نے اپنی سند سے حدیث  خالد بن ولیدؓ  سنا ئی  ۔چنانچہ حضرت سیدنا خالد بن ولید ؓ ُ سے روایت ہے کہ ایک اَعرابی (یعنی دیہات کا رہنے والا) نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں حاضر ی دی اور عرض کی :
 دنیا وآخرت کے بارے میں  کچھ پوچھنا چاہتا ہوں  توجانِ کائنات ﷺنے ارشاد فرمایا : پوچھو! جو پوچھنا چاہتے ہو۔
آنے والے نے عرض کی : میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں  ۔
جانِ کائنات ﷺنے ارشادفرمایا : اللہ سے ڈرو، سب سے بڑے عالم بن جا ؤگے ۔
عرض کی :  میں  سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : قناعت اِختیار کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
عرض کی :  میں  لوگوں  میں  سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : لوگوں میں  سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں  کو نفع پہنچاتا ہو ، تم لوگوں  کی لئے نفع بخش بن جا ؤ ۔     
عرض کی :  میں  چاہتا ہوں  کہ سب سے زیادہ عدل کرنے والا بن جاؤں  ۔
 ارشادفرمایا : جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں  کی لئے بھی پسند کرو، سب سے زیادہ عادِل بن جا ؤگے۔
عرض کی :  میں  بار گاہِ الٰہی میں  خاص مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : ذکرُ اللّٰہ کی کثرت کرو،  اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جا ؤگے ۔
عرض کی :  اچھا اور نیک بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا :  اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں  دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں  دیکھ ہی رہا ہے۔
عرض کی :  میں  کامِل ایمان والا بننا چاہتا ہوں  ۔
 ارشادفرمایا : اپنے اخلاق اچھے کر لو، کامل ایمان والے بن جا ؤگے۔
عرض کی :  (اللہ تعالیٰ کا) فرمانبردار بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرا ئض  کا اہتمام کرو، اس کے مُطِیع( وفرمانبردار) بن جا ؤگے۔
عرض کی :  (روزقیامت) گناہوں  سے پاک ہوکر اللہ تعالیٰ  سے ملنا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا :  غسلِ جنابت خوب اچھی طرح کیا کرو،  اللہ تعالیٰ  سے اس حال میں  ملو گے کہ تم پر کو ئی  گناہ نہ ہوگا۔     
عرض کی :  میں چاہتا ہوں کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں  ہو۔
ارشادفرمایا : کسی پر ظُلْم مت کرو، تمہارا حَشْر نُور میں  ہوگا۔
عرض کی :  میں  چاہتا ہوں  کہ اللہ تعالیٰ  مجھ پر رحم فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا : اپنی جان پر اور مخلوقِ خدا پر رحم کرو ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرما ئے  گا۔
عرض کی : گناہوں  میں  کمی چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا :  اِستغفار کرو، گناہوں  میں  کمی ہوگی۔
عرض کی :  زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : لوگوں  کے سامنے  اللہ تعالیٰ  کے بارے میں  شکوہ وشکایت مت کرو، سب سے زیادہ عزت دار بن جا ؤگے۔
عرض کی : رِزْق میں  کشادگی چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : ہمیشہ باوضو رہو، تمہارے رزق میں  فراخی آ ئے  گی ۔
عرض کی : ا للہ  و رسول کا محبوب بننا چاہتا ہوں ۔
 ارشادفرمایا : اللہ ورسول کی محبوب چیزوں  کو محبوب اور ناپسند چیزوں  کو ناپسند رکھو۔
عرض کی :  اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان کا طلب گار ہوں ۔
 ارشادفرمایا : کسی پر غصہ مت کرو،  اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امان پاجا ؤگے۔
عرض کی : دعاؤں  کی قبولیت چاہتا ہوں  ۔   
 ارشادفرمایا : حرام سے بچو، تمہاری دعا  ئیں قبول ہوں  گی۔
عرض کی :  چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے لوگوں  کے سامنے رُسوا نہ فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا : اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو ، لوگوں  کے سامنے رُسوا نہیں  ہوگے۔
عرض کی : چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری پردہ پوشی فرما ئے ۔
 ارشادفرمایا :   اپنے مسلمان بھائیو ں  کے عیب چھپا ؤ ، اللہ تعالیٰ تمہاری  پردہ پوشی فرما ئے  گا۔
عرض کی :  کون سی چیز میرے گناہوں  کو مٹاسکتی ہے؟
 ارشادفرمایا : آنسو، عاجزی اور بیماری ۔
عرض کی :  کون سی نیکی  اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہے؟
 ارشادفرمایا : اچھے اخلاق، تواضُع، مصاءب پر صبر اور تقدیر پر راضی رہنا۔
عرض کی : سب سے بڑی برا ئی  کیا ہے؟ کون سی برا ئی اللہ تعالیٰ  کے نزدیک سب سے بڑی ہے؟
 ارشادفرمایا : برے اخلاق اور بُخْل ۔
عرض کی :  اللہ تعالیٰ کے غَضَب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟
  ارشادفرمایا : چپکے چپکے صدقہ کرنااور صِلہ رحمی۔
عرض کی : کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے؟   
 ارشادفرمایا : روزہ۔
(جامع الاحادیث ، ۱۹/ ۴۰۵ ، حدیث  :  ۱۴۹۲۲)


درسِ معرفت نمبر 3

 بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

3  - دَرس 1 جون 2024 | بروز:ہفتہ 23 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی

 علمِ معرفت 

معرفت ِ الٰہی کی جستجو انسان کو رب العالمین سے قریب تر کردیتی ہے

انسانوں پر نئے انکشافات کے دروازے  جستجو، تلاش اور پھر شناخت کے صدقے میں کھلتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انسان مختلف شعبہ ہائے حیات میں قابل قدر ترقی کرتا ہے اور یہی سلسلہ حتمی طور پر عروج انسانی کی ضمانت بنتا ہے؛ کیونکہ جہاں یہ  سلسلہ رکتا ہے وہیں سے جمود و تعطل کا آغاز ہوتا ہے اور وہیں سے انسان روشنی سے اندھیرے میں پہنچ جاتا ہے۔

بعینہ یہی نقشہ اور طریقہ معرفت الٰہی کا یعنی اللہ رب العزت کو کما حقہ جاننے اور پہچاننے کا ہے؛ چنانچہ جب تک  انسان معرفت الٰہی کی جستجو اور حصول میں مست و مگن رہتا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن کریم پر تدبر کرتا ہے، اس کے پیارے ناموں اور بلند صفات کو اپنی زندگی میں لازم پکڑتا ہے اور ان کے معانی اور اثرات پر غور کرتا ہے نیز انہی کیفیات کے ساتھ کثرت سے اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اس وقت تک انسان کی ترقی ہوتی رہتی ہے اور اس کو کامیابی ملتی رہتی ہے۔ اس عمل سے انسان کو معرفت کی راہ میں وہ منزل مل جاتی ہے جو حاصل عبدیت ہے، جیسا کہ سورہ ذاریات آیت ۵۶؍ میں فرمایا گیا: ’’اور میں نے جنا ّت اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔‘‘ اس آیت میں لیعبدون کی تشریح رئیس المفسرین حضرت عبداللہ  ابن عباس ؓ نے لیعرفون سےکی ہے۔ اس کا خلا صہ یہ نکلتا ہے کہ تخلیق انسانی کا مقصد معرفت والی عبادت ہے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی ہر علم کی بنیاد ہے اور یہ معرفت بندہ کی سعادت، کمال اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اس سے لاعلمی کا مطلب بندے کا اپنے نفس، اس کے آداب اور طریقہ کار سے لاعلمی ہےکہ اس لاعلمی سے نہ پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور نہ کامیابی۔‘‘ 

ہمارے لئے یہاں اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم معرفت باری تعالیٰ کے باب میں اس مقام پر ہیں جہاں سے ہماری روحانی پرواز بلند سے بلند تر ہوسکے اور اس سبق میں ہم روز بروز آگے بڑھ سکیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر کے پاس اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں ہے؛ کیونکہ معرفت باری تعالیٰ کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں دُنیا کے ہر ذرے سے اور تخلیق باری تعالیٰ کے ہر جزو سے اللہ کے عظیم الشان ہونے کا یقین کامل ہو۔ لیکن افسوس کہ بات یہ ہے کہ حقیقت حال ایسی نہیں ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ تخلیق باری تعالیٰ اور عجائبات دنیا کو دیکھ کر باری تعالیٰ تک پہنچنے کے بجائے انہی چیزوں میں کبھی کھو کر اور کبھی الجھ کر رہ جاتے ہیں۔  ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم نے خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ 

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ معرفت ِ ربانی میں پہلا مرحلہ اطاعت الٰہی ہے کیونکہ بندہ صحيح معنوں میں اطاعت ِ الٰہی کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے جب اسے اﷲ رب العزت کی معرفت حاصل ہو۔ اس سے آگے ہمارے لئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معرفت اور محبت لازم و ملزوم ہیں کہ جب ہم اللہ رب العزت کی عظمت کو جان کر اطاعت کے راستے معرفت کا جام پیتے ہیں تو ہم محبت باری تعالیٰ کے اسیر بن جاتے ہیں۔یہی وہ مقام ہوتا ہے جب انسان خود سے جدا ہوکر ہر لحظہ اللہ رب العزت کی معیت میں چلا جاتا ہے۔ اس حساب میں تفریق (خود سے جدا ہونا) پہلے ہوتا ہے اور جمع (معیت باری تعالیٰ کا احساس) بعد میں ہوتا ہے۔ 

معرفت و محبت کے اس فلسفے کو انسانی عقل سے قریب ایک مثال سے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ایک انسان کی دوسرے انسان سے دوستی ہے تو وہ انسان اپنے دوست سے متعلق تمام چیزوں کو بھی بنظر محبت اس وجہ سے دیکھتا ہے کہ وہ اس کے دوست سے منسوب ہیں۔ اس عمل کے درمیان اگر دوستی کرنے والا انسان دوست کے بجائے دوست سے منسوب چیزوں میں کھو جائے اور ان کو مقصود بنالے تو یہ شخص دُنیا کی نظر میں بے وفا اور نامراد کہلائے گا۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی اللہ سے محبت کا دعویٰ تو کرے مگر وہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں اس طرح کھو جائے کہ مقصود حقیقی اللہ رب العزت سے ہی دور ہو جائے تو یہ شخص بھی شریعت کی نظر میں بے وفا اور نا مراد گردانا جائے گا۔ یاد رکھئے! اللہ رب العزت کے تعلق سےعدم معرفت اور فقدان محبت ہی ہماری تمام پریشانیوں کی اصل بنیاد اور محرومیوں کی کلیدی وجہ  ہے۔ وہ لوگ جو اس جرم کے مرتکب ہیں، اللہ رب العزت نے اس طرح کے لوگوں کے تعلق سےصاف طور پر قرآن مجید میں یہ ارشاد فرما دیا ہے:
مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج:۷۴)
’’اللہ تعالیٰ کی جیسی تعظیم کرنی چاہئے تھی، ان لوگوں نے نہیں کی، یقیناً اللہ بڑے طاقتور اور سب پر غالب ہیں۔‘‘ 
ایک اعرابی نے نبی پاک ﷺ سے پُوچھا کہ ، ”حشر میں ہمارا حساب کون لے گا ؟“

میرے مالک ومرشد خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی نے ایک مقام پر فرمایا تھا بحوالہ
 حضرت اِمام بیہقی ( ابُوبکر احمّد بن حُسین البيهقي (المتوفى: 458هـ) نے ”شعبَ الایمان“ میں نقل فرمائی ہے۔
ایک اعرابی نے نبی پاک ﷺ سے پُوچھا کہ ، ”حشر میں ہمارا حساب کون لے گا ؟“
آپ ﷺ نے فرمایا ”اللہ“۔
اعرابی کہنے لگا ، کیا واقعی اللہ (خود حساب لے گا ) ؟
آپ ﷺ نے فرمایا ، ”ہاں خود اللہ حساب لے گا.“
اعرابی خوشی سے جُھوم اُٹھا اور چلتے چلتے کہنے لگا ، ”بخدا تب تو ہم نجات پا گئے“۔
آپ ﷺ نے پُوچھا ، ”کیسے ؟“ 
اعرابی بولا ، ”کریم جب قابُو پا لیتا ہے ، تو معاف کر دیتا ہے“۔
اعرابی چلا گیا مگر جب تک نظر آتا رہا حضورﷺ اُس کا جملہ دُھرا کر فرماتے رہے ”قَد وَجد رَبہ ، قَد وَجد رَبہ“
اُس نے رَب کو پہچان لیا ، بدُو اپنے رب تک پہنچ گیا۔
’معرفت شناسی، وہ علم ہے جس میں خود علم کے حصول کے امکان، ذرائع، طریقۂ کاراور درستی یا نادرستی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم کے کئی شعبے ہیں۔ مثال کے طورپر ’’خدا شناسی‘‘۔ علم کا وہ شعبہ ہے کہ جس میں خدا کے وجود اور خدا کی صفات ثبوتیہ یا سلبیہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ ریاضی وہ علم ہے کہ جس میں ہندسے اور حساب کے موضوع کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ انسان شناسی، علم کا وہ شعبہ ہے کہ جس میں انسان کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اسی طرح علم کے سینکڑوں دیگر شعبہ جات ہیں کہ جن میں ہستی کی کسی نہ کسی حقیقت اور کسی نہ کسی  موضوع پر بحث کی جاتی ہے۔

 خلاصہ یہ  ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو پُر امن، پُرلطف اور رو بہ ترقی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس راستے پر چلنا ہوگا جس راستے پر چل کر ہم معرفت الٰہی اور محبت باری تعالیٰ میں آگے بڑھ سکیں۔