نظام المدارس صوفیاء | بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم | جمعیہ نظامیہ اسلامیہ
2- دَرس 31 مئی 2024 | بروز:جمعہ 22 ذیقعد 1445ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
علمِ معرفت
دیدارِ الٰہی سے انکاری لوگوں کے انجام سے بھی آگاہی فرما دی۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَاْ نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنo۔(سُوۡرَۃُ الۡکَہۡفِ۔105)
ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے رب کی نشانیوں اور اس کے لقاء(دیدارِ الٰہی) Deedar e Elahi کا انکار کیا ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ( یعنی بغیر حساب کے انہیں جہنم رسید کیا جائے گا)۔
قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ ؕ (سُوۡرَۃُ الۡاَنۡعَامِ۔31)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے لقائے الٰہی( دیدار) کو جھٹلایا۔
اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ (سُوۡرَۃُ السَّجۡدَۃِ ۔54)
ترجمہ: خوب یادرکھو وہ اپنے ربّ کے لقاء (دیدار) Deedar e Elahi پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور یاد رکھو بیشک وہ (اللہ تعالیٰ ) ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی۔(سُوۡرَۃُ بَنِیۡۤ اسۡرَآءِیۡلَ ۔72)
ترجمہ :جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) Deedar e Elahi اندھا رہے گا۔
کچھ لوگ دنیا میں دیدارِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقع کو دلیل بناکر پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ نبی ہو کر اللہ کا دیدار نہ کر سکے تو ہم
کیسے کر سکتے ہیں حالانکہ اگر ہم قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقع کو بغور پڑھیں تو یہ واقع خود دیدارِالٰہی کے ممکن ہونے کا ثبوت ہے۔
وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۔(سُوۡرَۃُ الۡاَعۡرَافِ۔ 143)
ترجمہ:جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے( مقرر کردہ) وقت پرحاضر ہوئے اور ان کے ربّ نے ان سے کلام فرمایا تو ( کلامِ ربانی کی لذت پاکر دیدار کے آرزو مند ہوئے) عرض کرنے لگے۔ اے ربّ! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے (براہِ راست) ہر گز نہ دیکھ سکو گے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا دیدار کر لو گے۔ پھر جب ان کے ربّ نے پہاڑ پر تجلیّ فرمائی تو (شدتِ انوار سے) اِسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ( علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔
اَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیمؑ طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
اس واقعہ سے واضح طور پر دیدارِ الٰہی ثابت ہوتا ہے اور آیت کے آخر میںاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ” سب سے پہلا مومن ہوں” ثابت کرتا ہے کہ آپؑ کو دیدار ہوا کیونکہ مومن تو ہوتا ہی وہی ہے جو ربِّ جلیل کو دیکھ کر عبادت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ ”میں اللہ کا دیدار کرنے والاپہلا مسلمان ہوں۔” کیونکہ اگر یہ معنی نہ لیے جائیں تو ”پہلا مومن” سے خدانخواستہ یہ شک پیدا ہو تا ہے کہ کیا گزشتہ انبیاء نعوذ باللہ ”مومن” نہ تھے؟ بعض لوگ لَنۡ تَرٰىنِیۡ ( تو مجھے نہیں دیکھ سکتا) سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیدار نہیں ہوا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے یہ ہر گز نہیں فرمایا کہ ”میں دیکھا نہیں جا سکتا’ بلکہ یہ فرمایا کہ ”تم مجھے (براہِ راست ) ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔” اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسا اس لیے فرمایا کہ اللہ اپنا جلوہ اپنے محبوب ترین نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، اور
ان کے وسیلے سے ان کی امت کی خاطر، محفوظ رکھنا چاہتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا امتی ہونے کی خواہش کی۔
حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے خواجہ قطب الدین کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ "قیامت کے دن" کمبل پوش" قسم کے صوفیوں کو ان کی چادر اوڑھ کر آگے لایا جائے گا۔ اس کے بعد ان کے تمام شاگرد اور چاہنے والے ان پیروں کو تھام لیں گے اور اللہ تعالیٰ کمبل پوش زمرہ کے صوفیاء کو ایسی طاقت عطا فرمائے گا کہ وہ ان تمام راستوں کو پکڑ کر پل (پل سیرت) کے پار واپس آجائیں گے۔ باقی انتظار کرنے والوں کو اطلاع دیں کہ "وہ تمام لوگ جنہوں نے ہماری مخالفت نہیں کی بلکہ ہم سے محبت اور عزت سے پیش آیا وہ آگے آئیں اور ان روشوں کو مضبوطی سے پکڑیں اور اللہ کے حکم سے پل صراط کو عبور کرنے کے بعد جا کر حضور میں شامل ہو جائیں۔ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" یہ زمرہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے سیاہ چادر پہننے کے تقاضے پورے کیے" - اسرار الاولیاء ذیل میں: حضرت خواجہ جہانگیر شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ ایک انگریز شکاری نے یہ تصویر جنگل میں شکار کرتے ہوئے کھینچی جب وہ حضرت جہانگیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملا جو دنیا سے الگ تھلگ اور روحانی غور و فکر میں تھے۔
(دعا کی قبولیت اور اخلاص)
ابو القاسم قشیری تحریر فرماتے ہیں: " کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو دعا کرتا تھا اور گڑگڑاتا تھا ۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا یا الہی اگر میرے پاس اس کی حاجت ہوتی تو میں پوری کر دیتا ۔ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو وحی کی کہ اے موسیٰ علیہ السلام میں تم سے زیادہ اس پر رحم کرنے والا ہوں ۔ مگر وہ پکارتا مجھے ہے لیکن اس کا دل اپنی بکریوں کے پاس ہے اور میں کسی ایسے کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل میرے سوا کسی اور کے پاس ہو ۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات اس شخص سے کہہ دی، پھر اس نے خالص اللہ کی طرف متوجہ ہو کر دل سے دعا کی اور اس کی دعا قبول ہوئی ۔"
قبولیت دعا کے لیے خلوص نیت شرط ہے۔ اس کے بغیر دعا مقبول نہیں ہوتی۔ اگر انسان اللہ کو پکارتا ہے تو دل سے پکارے۔ ہاتھ دعاء میں اٹھے ہوں اور دل دنیا میں مشغول ہو یہ اخلاص نہیں۔(رسالہ قشیریہ ابو القاسم قشیری ؒ )
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» [انفال: 2]،
(مومن تو وہ ہے جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔)
اللہ کی بڑائی اور عظمت ان چیزوں کے ذریعے سمجھ آسکتی ہے جنہیں اللہ سبحانہ وتعالی نے کسی فیکٹری اور مزدور کی مدد کے بغیر خلق فرمایاہے۔ اسی موضوع کی جانب قرآن پاک میں اشارہ ہوا ہے :
«تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاء بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [فرقان: 61]،
(اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا)
اللہ رب العزت نے ایک ایسی عظیم زمین کو خلق فرمایاہے جس کی تہہ اور آخری گہرائی تک اب تک کوئی نہیں پہنچ سکا ہے، یہ زمین بہت وسیع اور ضخیم ہے۔
نبی کریمﷺ امام الانبیاء اور افضل الرسل ہیں آپ کی امت بھی کوئی معمولی امت نہیں ہے۔ یہ پسندیدہ اور منتخب قوم ہے۔ کس قدر فضیلت کی بات ہے کہ اللہ تعالی کا خوبصورت نام ہماری زبانوں پر جاری ہوتاہے اور ہمیں توفیق نصیب ہوتی ہے کہ ہم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں اور اس کا کلام پڑھ لیں۔
No comments:
Post a Comment