صفحات

Monday, June 3, 2024

5- دَرس معرفت


بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم

5- دَرس 2جون 2024 | بروز:اتوار24 ذیقعد 1445؁ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی


  علمِ معرفت اور خود کلامی 
نشانِ پا بھی پہنچا تو دیا کرتے ہیں منزل تک مگر فیضانِ میرِ کارواں کچھ اور ہوتا ہے
شریعت کے بغیر معرفت نہیں ہو سکتی۔ اور بغیر شریعت کے معرفت کا دعوی کرنے والا شخص جھوٹا ہوتا ہے۔کوئی بھی کامل ولی، صوفی بزرگ تارک نماز نہیں ہو سکتا۔ جو تارک نماز ہو یا شریعت پر عمل پیرا نہ ہو یا ارکان اسلام پر عمل پیرا نہ ہو تو وہ شخص ولی اور صوفی نہیں ہو سکتا۔ایسا شخص جھوٹا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اور اگر  کوئی شریعت کی مخالفت کر رہا ہے تو وہ شیطان ہے۔ ولی اور صوفی اور بزرگ یعنی ولایت اور تصوف کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جسم مادی دنیا میں روح کی سواری ہے۔ جبکہ روح امر ربی سے ہے۔ جسم اور روح کا ملاپ شعور کو جنم دیتا ہے ۔ اس شعور کو نفس کہتے ہیں۔ بغیر روح و بدن کے ملاپ کے نفس وجود نہیں رکھتا۔نفس کی موجود گی روح کے عالم مادہ میں سفر کی سہولت کاری کرتی ہے۔ نفس روح و بدن کی مجموعے کو اسکا ادارک اور اہمیت کا احساس  دلاتا ہے۔ نفس کو ڈائیور کہہ سکتے ہیں۔ اب اگر روح کی حکومت ہو تو بندہ مومن ، اور اگر نفس کی حکومت ہو تو بندہ بھٹکا ہوا اور مانند جانور۔
نفس نے چونکہ عالم مادہ میں کام کرنا ہوتا ہے اس لئے کئی بار اُس کی توجہ کا محور عالم مادیت بن کر رہ جاتا ہے لیکن اگر روح طاقتور ہو جو صرف اللہ کی عطا سے ہی ممکن ہے اور نفس کو کنٹرول رکھے تو وقت تخلیق سے شروع ہوا سفر ،اس مادی مرحلے میں بھی تیزی سے جاری رہتا ہے۔نفس کی تین بڑی قسمیں ہیں۔ 
اول نفس امارہ ، یہ بے لگام ہے، من مانی کرتا ہے۔ اس ڈرائیور نے سوار کو بے اہمیت کررکھا ہے من مانیان کرتا ہے اور مادی عیاشیوں کی حرس میں راہ غلط پر چلتا ہے۔
دوسری قسم نفس لوامہ ہے۔ یہ روح کی بات بھی مانتا ہے اور جسم کی خواہشات کا بھی کہنا مانتا ہے۔ یہ کنفیوز نفس ہے ۔جو نیکی اور بدی کے درمیان ڈولتا ہے۔
تیسری قسم نفس مطمئینہ ہے۔ یہ نفس وہ نفس ہے جس سے متعلق قرآن پاک میں آیا کہ اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔ اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ اور کاملہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں اس مقام پر  بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے۔
معرفت کا مطلب اپنے رب کو پہچاننا ہے۔ جوں جوں نفس معرفت پاتا جاتا ہے۔۔ وہ اپنی ترقی کے مراحل طے کرتا جاتا ہے۔علم سے حاصل کردہ ادراک معرفت کی بدولت عین القین کی منازل پا کر آئین فطرت کا پابند ہو جاتا ہے۔جو چیزیں حواس کی زد میں ہوں اُن کی پہچان علم کرواتا ہے ۔اللہ رب العزت بے مثل ہے۔ اپنی ذات ، اپنی صفات میں بے مثل۔۔۔ اللہ رب العزت زمان و مکان و مادہ و روح کا خالق ہے۔ اس کی ذات تک علم کی بدولت پہنچا تو جا سکتا ہے لیکن اُس کے وجود و صفات کا ادراک اُس ذات باری تعالٰی کی عطا سے ہی ممکن ہے، اور اس عطا کو ہی معرفت کہا جاتا ہے ۔کچھ خیالات کئی دن سے ذہن کا گھیرائو کئے ہوئے تھے آج انہیں تحریر میں لایا ہوں ۔۔۔ امید ہے آپ میری رائے پر اپنی فیڈ بیک ضرور دین گے۔
1۔ سائیکل چلانے والے کے لئے تیز رفتاری کی کیفیت ، 1000 سی سی موٹر سائیکل چلانے کے لئے تیز رفتاری اور ریسنگ کار چلانے والے کے لئے تیز رفتاری کی  کیفیات اور معنی الگ ہیں۔
2۔ ایک چیونٹی کے لئے زمان و مکان کا نظریہ وہ نہیں جو ایک 6 فٹ کے انسان کے لئے ہے۔ انسان کے چند میٹر چیونٹی کے لئے کلومیٹر بن جاتے ہیں۔
3۔ ایک بلی انسان کے مقابلے میں میچورٹی اور گروتھ کی منازل کئی گنا تیزی سے پار کر جاتی ہے۔ ایک انسان کا بچہ جب ایک سال کا ہوتا ہے تو اُس وقت بلی اُس  کے مقابلے میں8 سال کی عمر کا ہو چکا ہوتا ہے۔
4۔ زمین کا ایک سال 365 دن اور مرکری کا ایک سال 88 دن کا ہوتا ہے۔ یعنی مرکری پر رہنے والا زمین والے اپنے ہم عمر سے زیادہ جلدی عمر رسیدہ ہو جائے گا۔
5۔ کلومیٹر کا راستہ ایک پیدل چلنے والے، ایک سائیکل سوار، ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی پر طے کرنے والے کے لئے مختلف محسوسات اور کیفیات اور زمان و مکان کے مختلف تجربات اور حقیقتون کا ادراک لائے گا۔
پہلا خیال معرفت با ذریعہ منازل لگائو یا عشق ہے۔ یعنی جتنی محبت منزل سے ہو گی۔ روح بھی اُتنی فوکس اور طاقتور ہو گی۔ نیت کی صداقت اور پھر عمل کی مخلصی  مجاہدات کو آسان اور منزل کو قریب کر دیتی ہے۔
دوسرا خیال معرفت با ذریعہ علم و تجربات ہے۔
تیسرا خیال معرفت با ذریعہ جدوجہد اخلاق و کردار ہے۔
چوتھا خیال ,خیال کی پرواز اور ظرف کا مقام ظاہر کرتا ہے ۔ جتنی مضبوط نیت پھر جتنا مضبوط تعلق ، اُتنی ہی قربت ۔ اور جتنی قربت اُتنی ہی نزدیک منازل
پانچواں خیال بھی مُرشد یا استاد کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔مرشد جتنا کامل اُتنی جلدی منزل ۔
اللہ کی ”رحمت سے مایوس نہ ہونا، گناہ کوکوئی طاقتور شے نہ سمجھنا،  گناہ کوئی ایسی شے نہیں ہے کیونکہ وہ معاف کرنے والا ”ہمیشہ سے معاف کرتا آرہا ہے، “:: معاف کرنا جو ہے وہ اس کا شوق ہے،: ایک جگہ اللہ فرماتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ تم انسان ہو'میں نے خود پیدا کیا ہے'میں جانتا ہوں کہ تم ”ضعیف ہو،کمزور ہو، اس لئے میں نے تمہارے لئے اپنی ””رحمت بنائی““ ہے۔  ورنہ اللہ کا کام یہ تھا کہ وہ وارننگ دینے والا ہے۔ : آپﷺ  ”بشیرا “ و نزیرا :: بشارتیں دینے والے اور وارننگ دینے والے آئے: مصدقاً سچ بولنے والے: اور سچ ثابت کرنے والے بن کہ آئے مگر آپﷺ کا ٹائٹل کیا ہے رحمتہ اللعالمین ﷺ! ورنہ وارننگ ہو جاتی اور جس وقت اسلام آیا تھا اسی وقت فیصلہ ہو جاتا کہ دودھ ایک طرف کر دو اور پانی ایک طرف کر دو' کافروں کو ہلاک کر دو۔بات ختم ہو جاتی۔ مگر ایسا نہیں۔ کافر جو ہیں آپ کیلئے نرسری ہیں'اس سے آپ کو خوراک چاہئےیہیں سے ””اسلام کے پودے““ باہر آنے ہیں ۔ ””“ افسوس تو یہ ہے کہ“ آپ اپنے آپ کو بھی سچا نہیں سمجھتے ہو۔ پھر خود کو ”اتنا سچا سمجھتے“ ہو کہ  باقی سب کو ”جھوٹا سمجھنے لگ جاتے ہو۔ “  یہ بھی ” افسوس کی بات ہے۔ “  تمہیں کہتے ہو کہ سچے ہو جاؤ تو کہتے ہو کہ ہم سچے نہیں ہو سکتے۔پھر کہتے ہیں کہ ہو جاؤ۔چلو ہو گئے۔ :: اب کیا ہے؟  کہتا ہے کہ باقی ” سارے جھوٹے نظر“ آرہے ہیں'باباجی نے آپ کو اس بات سے بچایا تھا کہ'تم ”اتنے حق والے نہ ہو جانا کہ سارے ہی برے نظر آئیں۔“حق کی آواز حق ہے۔عین حق ہے بلکہ پورا حق ہے'ساری چیز ٹھیک ہے'ہم بھی حق ہیں'تم بھی حق
 ہو'تجھے بھی اسی اللہ نے بنایا،مجھے بھی  اسی اللہ نے بنایا، اور اس کے ”سارے کام صحیح“ ہیں۔ اس کے کسی کام کو برا نہیں کہہ سکتے۔
  ““موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے رب العالمین تیری سب باتیں سمجھ آ گئی ہیں،یہ نہیں پتہ چلا کہ چھپکلی کیوں پیدا فرمائی۔: اللہ نے فرمایا کہ: ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو کیوں بنایا۔یعنی کہ اس کی دنیا میں تیرے جیسے انسان کا وجود نہیں ہے۔" اب یہ اللہ کے کام ہیں کہ وہ چھپکلی بنانے والا موسیٰ علیہ السلام کو بھی بناتا ہے۔ ":: اس لئے چھپکلی بھی حق ہے:: اور موسیٰ علیہ السلام بھی برحق ہیں۔:: کمال کی بات تو یہ ہے کہ وہ "شیر پیدا" کرتا ہے تو،،،،، "گیڈر بھی پیدا" کرتا ہے۔ :: شیر گیڈر اور لومڑ جو ہیں یہ سارے انسانوں کے نام ہیں،شکلیں جانوروں کی ہیں،یہ آسان بات ہے مشکل نہیں ہے۔ہر انسان کی جتنی صفات ہیں'کائنات کے جتنے پرندے ہیں،جتنے جانور ہیں،ان میں مکمل طور پر وہ صفت موجود ہے۔شیر تو ہے ہی انسان کا ٹائٹل۔: آپ کہتے ہیں نہ کہ شیر الٰہی قُطب ربانی اور شیر ربانی اسد اللہ الغالب مطلوب کل طالب۔یہ ایک مقام ہے۔ ""کوئی بھی جانور لے لو'اس میں کوئی نہ کوئی صفت خصوصیت کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ کسی" انسان میں ضرور پائی جاتی ہے۔ ": آپ نے "آستین کا سانپ" تو دیکھا ہوا ہی ہے۔یہ نہ کہنا کہ ہمارے "اکثر دوست" ہوتے ہیں۔: دوستوں کے خلاف بول رہے ہو کیا؟مطلب یہ ہے کہ ہر چیز جو ہے وہ موجود ہے۔”کمزور(ڈرپوک)کو گیدڑ کہتے ہیں،“: شاہین کی جھپٹ، : چیتے کی آنکھ  یہ "" ساری انسانوں کی باتیں"" ہیں۔: جتنی بھی ایسی صفات ملیں گی'وہ انسانوں میں ہوں گی۔ ""اللہ تعالٰی نے آپکی صفات کو پوری شکل دے کے یہ مظاہرہ کیا کہ دیکھ لو یہ کیا ہے۔: محنت کرنے کی صفت چیونٹی میں ڈالی': بیچاری نے یہاں سے ایک دانہ اٹھایا اور وہاں جا کہ رکھ کے آگئی۔بیچاری چیونٹی شاہین کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے کہ " تو  اتنا بلند ہے  اور میں "زمین" پر ہوں 'تو بات کیا ہے۔ ":: شاہین نے کہا کہ بڑی آسان بات ہے۔تو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاکِ راہ میںمیں نہُ سپہر کو نہیں لاتا نگاہ میں  !یہ تیرا میرا فرق ہے'میرا مقام ستاروں سے یوں بلند ہےکہ میں آسمانوں کو نگاہ میں نہیں لاتا اور تو خاک کے اندر رینگتی ہوئی دانے اکٹھتے کرتی جارہی ہے۔ دانے کا معنٰی؟ زق'دولت'چننا'پیسہ'جمع'گننا۔یہ چیونٹی کی زندگی ہے اور ہر شے سے بے نیاز ہو کے بلند نگاہی شاہین کا تصور ہے۔ :: اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپ اس کائنات میں انسان ہو کے توبہ کرو  اور :: گناہ کا زکر نہ کرو۔:
 توبہ کرنے کے بعد اگر یہ کہتے ہیں کہ:  اللہ معاف نہیں کرسکتا تو پھر یہ بڑا ہی "کلمہٓ کفر" ہے۔ : اللہ کیسے نہیں معاف کر سکتا۔:
 اللہ چاہے تو سب کر سکتا ہے :آپ معاف کرو اور اپنے آپ پر رحم کرو۔

میری دعا ہے آپ سب کے لیئے  اس جہانِ رنگ و بوُ میں اگر کوئی چیز صحیح معنوں میں اپنا حقیقی اور کامل وجود رکھتی ہے تو 
وہ اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔ باقی ہر چیز نسبتی ہے۔ فریم آف ریفرنس بدلنے سے محسوسات، کیفیات اور زمان و مکاں کی تعریف بھی بدل جاتی ہے۔ اللہ رب العزت آپ کو سدا یونہی علم و دانش 
کی قندیلیں روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔





No comments:

Post a Comment