نظام المدارس صوفیاء | بسمہٖ ونصلی ونسلم علی رسولہٖ الکریم | جمعیہ نظامیہ اسلامیہ
پہلا دَرس 30 مئی 2024 | بروز:جمعرات 21 ذیقعد 1445ھ | معلم : خواجہ طہ عامر نظامی امینی
علمِ معرفت
معرفت کا لغوی اور اصطلاحی معنی لفظ معرفت ’’عرف‘‘ سے مشتق ہے اور لغت میں اس کا معنی ہے ’’کسی چیز کی ذات،آثار اور خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کرنا‘‘ (١)جبکہ اصطلاح میں کسی چیز کو اس کے غیر سے ممتاز کردینے کو اس چیز کی معرفت کہا جاتاہے ۔
فرق بین علم و معرفت:
علم و معرفت کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی تصویر ذہن میں آجائے اور اسے حواس خمسہ کے ذریعہ درک کیا جائے۔تو یہ اس شی کا علم کہلاتا ہے اور چونکہ اللہ تعالی انسانی تصور سے بالا تر ہے ،حواس خمسہ بھی اس کے ادراک سے عاجز ہیں لہٰذا خداوند عالم کے بارے میں لفظ’’علم‘‘استعمال نہیں ہوتا بلکہ لفظ ’’معرفت‘‘استعمال ہوتا ہے مثلا علمت اللہ نہیں کہا جائے گا بلکہ عرفتُ اللّہ کالفظ استعمال ہوگا۔
انسان کی حقیقی قدرو قیمت اورجوہر کمال ہے۔ وہ علم و معرفت کی جس بلندی پر فائز ہوگا اسی کے مطابق اس کی قدر ومنزلت ہوگی۔ چنانچہ جوہر شناس نگاہیں شکل و صورت، بلندیِ قدو قامت اور ظاہری جاہ و حشم کو نہیں دیکھتیں بلکہ انسان کے علم وہنر کو دیکھتی ہیں اور اسی ہنر کے لحاظ سے اس کی قیمت لگاتی ہیں ۔
زآنکہ ہر کس را بقدر دانش او قیمت است
فلسفہ کے موضوعات میں سے ایک موضوع معرفت شناسی(علمیات) ہے جدید دور میں یہ موضوع کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ سب سے پہلےاس علم کے بارے میں مستقل موضوع کے طور پر غربی مفکرین نے لکھنا شروع کیا لیکن مسلمان فلاسفہ نے اس کو فلسفی بحثوں کے ضمن میں بیان کیا تھا ۔ اب اس موضوع کو مستقل طور پر مسلمان فلاسفہ بھی لکھنا شروع ہو گئے ہے ۔لفظ کی وضاحت : اس علم کو تین ناموں سے یاد کیا گیا ہے : 1: 19 صدی تک اس علم کو gnostology (اس لفظ کو gnosis سے لیا گیا ہے جس کا معنی عرفان و شناخت ہے) کہتے تھے ۔2: 19 صدی کے بعد سے اس علم کو epistemology کہا جانے لگا ۔ (اس لفظ کو یونانی لفظ episteme سے لیا گیا ہے ، یونانی زبان میں اس کا معنی معرفت و شناخت ہے) 3: لیکن آج کل اس علم کو theory of knowledge کہا جاتا ہے ۔ اردو میں اس کا ترجمہ علمیات کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اس علم کے اہم ترین مسائل: 3 : میرے ذھن کے باہر کوئی چیز واقعیت رکھتی ہے یا نہیں ؟2 : (اگر پہلے کا جواب مثبت ہو تو دوسرے سوال کی نوبت آئے گی ) اگر میرے ذھن سے ہٹ کر کوئی چیز ہے تو آیا اس کی معرفت و شناخت حاصل کرنا ممکن ہے یا نہیں ؟ 3 : اگر معرفت ممکن ہے تو کیا اس معرفت و شناخت کو دوسروں تک منتقل بھی کر سکتے ہیں یا نہ؟
معروف اور عارف کے درمیان جو معارفت ہے وہ کوئی عارف عطا کرتا ہے۔ رسول کی معرفت کوئی عطا کرئے گا تو کوئی رسول کو پہچانے گا۔
غوث الاعظم حضرت سیّدناشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:
مَنْ لَّمۡ یَعۡرِفُہٗ کَیۡفَ یَعۡبُدُہٗ۔
مفہوم: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔”
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)
اللہ کو دیکھ کر’ پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضوری قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت اور عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے’ اس دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو معرفتِ الٰہی
کی تعلیم دی۔ جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عبادات بے روح نہ ہوں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ۔(سُوۡرَۃُ الذّٰرِیٰتِ ۔56)
ترجمہ: ”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ :
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ۔
یعنی اس آیت میں لِیَعۡبُدُوۡنِ (عبادت کے لیے ) سے مراد لِیَعۡرِفُوۡنِ(معرفت کے لیے) ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی عبادت سے مراد معرفت ہی ہے کیونکہ تمام عبادات کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان یعنی معرفت نہیں دلاتی وہ عبادت نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں ” لِیَعۡبُدُوۡنِ” سے مراد عبادت کی اصل روح یعنی ”معرفت” کا حصول ہے۔ صرف عبادات کے لیے تو اللہ کے فرشتے ہی کافی تھے۔ اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں۔ ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے قرب’ وصال اور معرفت کی طلب کریں جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَرَدۡتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِاُعۡرَفَ
ترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میری پہچان ہو۔
انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اور اس کی عبادات کا مغز اللہ کی پہچان ہے’ جس نے اس مقصد سے رو گردانی کی بے شک وہ بھٹک گیا۔ نہ دین ہی اس کا ہوا نہ دنیا۔ مرنے کے بعد قبر میں انسان سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے گا مَنْ رَبُّکَ بتا تیرا رب کون ہے؟جس نے اپنے ربّ کی پہچان ہی حاصل نہ کی ہو گی وہ اس سوال کا کیا جواب دے پائے گا۔ اگر اس کا جواب یہ ہوگا کہ کائنات اور تمام مخلوق کا خالق میرا رب ہے تو یہ جواب تو یہود و نصاریٰ کا بھی ہوگا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہونے کی فضیلت اُسے کیسے حاصل ہوگی؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت اسی لیے خیر الامم ہے کہ اس کے لیے اللہ کے دیدارو وصال کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں کئی آیات میں اللہ سے ملاقات (معرفت و دیدار) کی طرف اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راغب کیا گیا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ (سُوۡرَۃُ الاِنۡشقَاقِ۔6)
ترجمہ: اے انسان تو ﷲ کی طرف کوشش کرنے والا اور اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔
جَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَۃً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ ۚ وَ کَانَ رَبُّکَ بَصِیۡرًا ٪ (سُوۡرَۃُ الۡفُرۡقَانِ۔20)
ترجمہ:آیا تم صبر کئے بیٹھے ہو؟ (اور ﷲ کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو؟ )حالانکہ تمہارا رب تمہاری طرف دیکھ رہا ہے اور تمہارا منتظر ہے۔
فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا ۔(سُوۡرَۃُ الۡکَہۡفِ۔110)
ترجمہ: جو شخص اپنے رب کا لقاء (دیدار) Deedar e Elahi چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالحہ اختیار کرے۔
دنیا میں انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کے دیدار کی آرزو بھی دل میں رکھتا ہے اور بہت دیر تک اس سے ملاقات کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو انسان اللہ سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس محبت کے اظہار کے لیے خالی سجدوں کو کافی سمجھ لیتا ہے اور اس کے دیدار اور وصال کی خواہش ہی نہیں رکھتا بیشک وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اس
کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙo اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ o (سُوۡرَۃُ یُوۡنُسَ۔7-8)
ترجمہ: بے شک جو لوگ لقائے الٰہی (دیدار ) کی خواہش نہیں کرتے اور دنیا کی زندگی کو پسند کر کے اس پر مطمئن ہو گئے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو بیٹھے’ انہیں ان کی کمائی سمیت جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment